پیر‬‮ ، 23 مارچ‬‮ 2026 

امریکا کی افغانستان ،پاکستان پالیسی تبدیل،جیمز میٹس کی تصدیق ،تشویشناک تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 17  جولائی  2017 |

واشنگٹن(آئی این پی) امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ جیمز میٹس نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی کے علاقائی تناظر میں پاکستان کے حوالے سے حکمت عملی بھی شامل ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک نیوز بریفنگ کے دوران امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے عندیہ دیا کہ نئی حکمت عملی افغانستان میں امریکی فوج کے کام کی نوعیت کو تبدیل کرسکتی ہے۔

تاہم امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ جس حکمت عملی پر کام کر رہی ہے، اس سے امریکا کے پاکستان اور افغانستان کے ساتھ نئے طریقے سے تعلقات استوار ہوں گے۔یہ پہلی مرتبہ ہے جب امریکی کابینہ کی سطح کے حکام نے یہ اشارہ دیا ہے کہ امریکا کی افغانستان کے لیے پالیسی میں پاکستان سے متعلق حکمت عملی بھی شامل ہے۔نئی امریکی حکمت میں پاکستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کا کہنا تھا کہ علاقائی تناظر میں آنے والے (ممالک)اس حکمت عملی میں شامل ہوں گے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی خبریں، جن کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ 5 ہزار اضافی فوجی افغانستان بھیجے گا، درست ثابت ہونے والی ہیں۔میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی افغانستان کے لیے امریکی پالیسی پر نظر ثانی اپنے آخری مراحل میں ہے جسے امریکی کانگریس سے مشاورت کے بعد رواں ماہ کے آخر تک جاری کر دیا جائے گا۔امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے کہا کہ سینیٹر جان مک کین نے پاکستان اور افغانستان کے لیے نئی پالیسی مرتب دینے کے سلسے میں اہم کردار ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ سینیٹر جان مک کین نے کانگریس میں وہ کوششیں کیں جن کی ہمیں ضرورت تھی اور بحیثیت چیئرمین آرمڈ سروسز کمیٹی ان کا بہترین کردار تھا۔

رواں ماہ کے آغاز میں سینیٹر میک کین نے اپنے دورہ پاکستان اور افغانستان کے دوران اسلام آباد پر زور دیا تھا کہ وہ افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرے یا پھر نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائے۔اپنے دورے کے دوران کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ ہم اس سے توقع کر رہے ہیں کہ وہ طالبان خصوصی طور پر حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ہمارے ساتھ تعاون کرے ۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر پاکستان اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا تو پھر امریکا کو بحیثیت قوم پاکستان کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کر لینا چاہیے۔بعد ازاں امریکی کانگریس نے پاکستان کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مبینہ تعلقات پر پاکستان کی سول اور عسکری امداد روکنے کے لیے کئی اقدامات کیے۔امریکا نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کو اپنے ہمسایہ ممالک میں دہشت گرد کارروائیاں کرنے کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دے اس کے علاوہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بھی فوری رہا کرے۔

سیکرٹری اسٹیٹ کا کہنا تھا کہ نئی حکمت عملی تمام امور کو ٹھیک کرتے ہوئے افغانستان میں انتہاپسندوں کے لیے سخت رد عمل کو ترتیب دے گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جنرل ایچ آر مک ماسٹر اور ان کی ٹیم نئی پالیسی واضع کر رہی ہے اور اس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ٹیم نے پاکستان اور افغانستان کے حکام سے بھی مشاورت کی۔امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے بجائے پرائیویٹ فوجی کونٹریکٹر کو بھیجنے کی میڈیا رپوٹس کی بھی تصدیق کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…