جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

افغانستان کی شکایت ،امریکہ حرکت میں آگیا،پاکستان سے بڑا مطالبہ کردیاگیا

datetime 11  جون‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن(آئی این پی ) امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان میں امن کو سیاسی مفاہمت سے مشروط کرتے ہوئے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنے ہمسایہ ملک میں امن عمل میں حصہ لینے کے لیے طالبان کو قائل کرے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے نیوز بریفنگ کے دوران یہ بات ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی جو محکمہ خارجہ کے خیالات جاننے کی کوشش کررہا تھا

کہ کیا پاکستان ابھی بھی افغانستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرنے کے لیے انتہا پسندوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان پر الزام نہیں لگایا بلکہ ان کی ترجمان ہیتھر ناوٹ نے کہا کہ امریکا افغانستان میں امن بحال کرنے کے لیے سیاسی حل کی جانب ہی دیکھتا ہے کیونکہ فوجی حل کے ذریعے افغانستان میں امن بحال کرنا مشکل ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ بس اتنا کہنا چاہیں گی کہ وہاں لوگ کافی عرصے سے حالت جنگ میں ہیں اور امریکا نے افغان حکومت کی مدد جاری رکھی ہوئی ہے۔اس حوالے سے امریکی تھنک ٹینک میں موجود افغان ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان کے مسائل کے حوالے سے اپنے خیالات کو عوامی سطح پر شیئر کرنے سے امریکی پالیسی سازی کے عمل پر اثر انداز ہونے کا موقع ہے۔اٹلانٹک کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال اور امریکا کا اس خطے میں کردار زیر بحث آیا۔اس اجلاس کے دوران شرکا نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے معاملات میں اپنے اثرور سوخ کو مزید بڑھائیں اور دہشت گردی کے خاتمے تک افغانستان نہ چھوڑیں۔اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے تین مقررین نے پاکستان پر الزام لگایا کہ امریکا افغانستان میں جن مسائل کا شکار ہے وہ پاکستان کی طرف سے ہیں۔ان تین مقررین میں ایک زلمے خلیل زاد جو افغانستان اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں،

دوسرے منیش تیواری تھے جو سابق بھارتی وزیر ہیں جبکہ تیسرے فرد ایشلے ٹیلس تھے جو کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے اہلکار ہیں۔اجلاس میں موجود پاکستانی سفیر اعزاز احمد چوہدری نے شرکا کی تنقید اور ساتھی مقررین کے مسخر کا سامنا کرتے ہوئے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ افغانستان میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو نہ ٹھرایا جائے۔ایشلے ٹیلس نے خبردار کیا کہ یہ بھی امکانات ہیں کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ ایک مخصوص وقت میں افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی تو وہ افغانستان میں اپنی وابستگی کو کم کرتے ہوئے خطے سے دستبردار بھی ہوسکتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے ایک گروہ کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور اب یہ پاکستان حکومت کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ اپنی کوششوں کو دگنا کرتے ہوئے افغانستان سے امریکی انخلا سے قبل افغان طالبان کو کابل حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے مذاکرات کرنے پر قائل کریں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…