بغداد (نیوز ڈیسک) شام میں عجیب و غریب کھچری پک چکی ہے، کوئی معلوم نہیں کون کس سے لڑ رہا ہے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکہ ایک اتحاد کی قیادت کر رہا ہے جو شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کرتا ہے جبکہ معتدل جنگجو گروپوں کی حمایت کی جارہی ہے اور امریکی حکام تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں جبکہ امریکی صدر اوباما کہہ چکے ہیں کہ صدر بشارالاسد کو اقتدار چھوڑنا ہوگا۔ دوسری جانب روس نے بھی کچھ روز قبل شام میں فضائی حملوں کا آغاز کردیا ہے اور میڈیا کے مطابق ان فضائی حملوں کا نشانہ بشارالاسد کے مخالفین بن رہے ہیں۔ روسی صدر پیوٹن بار بشارالاسد کی حمایت کر چکے ہیں۔ برطانیہ خطے میں امریکی اتحاد کا حصہ ہے۔ ایران بشارالاسد حکومت کی بھرپور حمایت کر رہا ہے اور اب خبریں آرہی ہےں کہ اس کی فوجیں بھی شام پہنچ چکی ہیں۔ ترکی اصولی طور پر بشارالاسد حکومت کا مخالف ہے اور وہ ایسے معتدل جنگجو گروپوں کی حمایت کر رہا ہے جو اسد حکومت اور کردوں کیخلاف لڑ رہے ہیں۔ سعودی عرب اور قطر بھی بشارالاسد حکومت کیخلاف ہےں اور سنی جنگجووں کو مدد فراہم کر رہا ہے۔ فرانس بھی اسد حکومت کا مخالف ہے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے



















































