پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

نیپال میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں عارضی سکول قائم،تعلیمی سفرپھر شروع

datetime 31  مئی‬‮  2015 |

کھٹمنڈو(نیوزڈیسک) یونیسیف کے مطابق اپریل کے زلزلے سے پہلے ہی نیپال میں اسکول چھوڑنے کی زیادہ شرح ایک بڑا مسئلہ تھا۔نیپال میں اپریل میں آنے والے زلزلے کی وجہ تباہ ہونے والے ہزاروں سکول دوبارہ کھلنے شروع ہوگئے ہیں۔سات اعشاریہ آٹھ شدت کے اس زلزلے کے نتیجے میں آٹھ ہزار سکولوں میں 25 ہزار کلاس روم تباہ ہو گئے تھے اور آٹھ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک بھی ہوئے تھے۔کھولے جانے والے زیادہ تر سکولوں کو بانس، لکڑی اور ترپال جیسے مواد سے عارضی بنیادوں پر تعمیر کیا گیا ہے۔سکولوں میں ابتدائی طور پر ایسی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی جن سے بچوں کو آفت کے صدمے سے بحالی میں مدد مل سکے۔واضح رہے کہ حکومت نے کھٹمنڈو اور اس کے ملحقہ اضلاع میں زلزلے سے نقصان کے باعث مئی کے مہینے کے لیے تمام سکول بند کر دیے تھے۔اپریل میں آنے والے زلزلے نے ہزاروں لوگوں کو بے گھر کر دیا تھا۔ایک اندازے کے مطابق گورکھا، سندھوپلچوک اور نواکوٹ کے اضلاع میں تقریباً 90 فیصد سکول تباہ ہوگئے تھے۔نیپال کی وزارتِ تعلیم کی ایک اہلکار لاوادیو آوشتھی نے میڈیاکو بتایا کہ ’دو سال تک سکول کی عمارتوں کی تعمیر مکمل کر لی جائے گی لیکن تب تک عارضی طور پر بنائے گئے سکولوں سے ہی گزارہ کرنا پڑے گا۔‘دو سال تک سکول کی عمارتوں کی تعمیر مکمل کر لی جائے گی لیکن تب تک عارضی طور پر بنائے گئے سکولوں سے ہی گزارہ کرنا پڑے گا۔سکول کے اوقات کو مختصر کرنے کے ساتھ بچوں کو ایسی سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے گا جن سے ان کی ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں اور اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ نے سکولوں میں تصویری کتابیں اور دیگر اشیا تقسیم کی ہیں۔بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کے ساتھ وابستہ بچوں کی نشونما کی ماہر شیوا بھوسل کا کہنا ہے کہ ’سکولوں میں بچے مختلف قسم کےتفریحی مواد کے ساتھ خود کو مشغول کر کے بہت لطف اندوز ہو رہے ہیں۔‘یونیسیف کے مطابق اپریل کے زلزلے سے پہلے ہی نیپال میں سکول چھوڑنے کی زیادہ شرح ایک بڑا مسئلہ تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…