پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

گھانا میں معاوضہ لے کر جنازے پر رونے والوں کی مقبولیت میں اضافہ

datetime 9  جولائی  2018 |

گھانا (مانیٹرنگ ڈیسک) افریقا کے اکثر ممالک میں جنازوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور گھانا میں جنازوں پر غم زدہ اور رونے والوں سے معاشرے میں اہمیت بڑھتی ہے اسی بنا پر گھانا میں جنازوں پر پیشہ ور رونے والوں کو بلوایا جاتا ہے۔ اس رونے دھونے کو دیکھتے ہوئے لوگ اس بات کی تعریف کرتے ہیں کہ مرنے والے سے اہلِ خانہ کو کتنی محبت تھی اور اسی بنا پر اب رقم دے کر جعلی آنسو بہانے والوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔

یعنی اب گھانا میں جنازوں پر آہ و بکا اور آنسو بہانا ایک باقاعدہ کاروبار بن چکا ہے۔ گھانا کی ایک خاتون ایمی ڈوکلی کہتی ہیں کہ بہت سے لوگ اپنے عزیزوں اور پیاروں پر کوشش کے باوجود آنسو نہیں بہاسکتے اسی لیے وہ ہم پر انحصار کرتے ہیں۔ ڈوکلی خود بھی بیوہ ہیں اور انہوں نے رونے کےلیے بیواؤں کا ایک گروپ بنارکھا ہے۔ لیکن ہر جگہ رونا آسان بھی نہیں ہے اور اسی لیے وہ آنسو بہانے کا معاوضہ لیتی ہیں، اگر جنازہ بڑا ہوتو وہاں رونے کے پیسے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ جنازوں پر زیادہ سے زیادہ رونے والے بلوائے جاتے ہیں اور دیگر رسومات بھی ادا کی جاتی ہیں۔ اسی لیے افریقا کے کئی ممالک پر جنازوں پر بہت رقم خرچ ہوتی ہے جو 15 سے 20 لاکھ روپے تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ علاوہ ازیں جنازے اور تدفین کی مشہوری کےلیے اشتہارات دیئے جاتے ہیں اور بڑے بڑے بورڈ لگائے جاتے ہیں۔ مرنے والے کےلیے مہنگے اور انوکھے تابوت بھی بنائے جاتے ہیں۔ گھانا میں ’جنازوں پر رونے والی ایسوسی ایشن‘ میں انتہائی ذہین رونے والے افراد بھرتی کیے گئے ہیں جو ایسے ٹسوے بہاتے ہیں کہ غمزدہ خاندان ان پر پیسے نچھاور کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ صحت مند لوگ بھی وصیت کرجاتے ہیں کہ ان کے مرنے پر رونے والوں کا یہی گروپ بلایا جائے۔ رونے کے مختلف انداز سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ رونے کے مختلف انداز کی فیس بھی مختلف ہوتی ہے۔ کچھ لوگ صرف آنسو بہاتے اور سسکیاں بھرتے ہیں، کچھ لوگ روتے ہوئے چیختے اور چلاتے ہیں جس کے زیادہ پیسے ہوتے ہیں۔ جبکہ تیسرا گروپ تو روتے روتے گرجاتا ہے اور زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگتا ہے۔ کچھ ماہر رونے والے روتے وقت الٹیاں کرنے کی اداکاری بھی کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…