ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بھارت سے سیلاب میں بہہ کر بنگلادیش آنے والا ہاتھی دونوں ممالک کے حکام کیلئے دردِ سر بن گیا

datetime 15  اگست‬‮  2016 |

ڈھاکہ(آئی این پی)بھارت سے سیلاب میں بہہ کر بنگلادیش آنے والا ہاتھی دونوں ممالک کے حکام کے لیے دردِ سر بن گیا ۔برطانوی میڈیا کے مطابق تین ہفتے قبل آنے والے سیلاب میں یہ ہاتھی کئی سو کلومیٹر پانی میں بہتا بنگلہ دیش کے ضلع جمال پور پہنچ گیا تھا۔ہاتھی کو ایک مقامی جنگلی حیات کے پارک میں منتقل کرنے کی کوشش میں مصروف ’تپن کمار دے‘ کے بقول اتوار کو اس ہاتھی کو بیہوشی کا ٹیکا لگایا گیا تھا تاکہ اسے ٹرک کے ذریعے مقامی پارک میں منتقل کیا جاسکے۔انڈین محکمہ جنگلی حیات کے حکام کا کہنا ہے کہ اس ہاتھی کو بھارت واپس نہیں لے جایا جائے گا کیونکہ اس بات کی بہت کم امید ہے کہ اس کے ساتھی اسے دوبارہ ریوڑ میں قبول کریں گے۔انڈین حکام اس بات پر رضامند ہیں کہ اس ہاتھی کو جنگلی حیات کے لیے بنائے گئے مقامی وائلڈ لائف پارک منتقل کر دیا جائے۔تپن کمارکا کہنا ہے کہ وہ بیہوشی کی دوا کی مقدار کے بارے میں تجربہ کر رہے ہیں۔ ان کے بقول جس جگہ یہ ہاتھی موجود ہے وہاں سے سڑک کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔حکام ہاتھی کو مکمل طور پر بہوش نہیں کرنا چاہتے ان کی خواہش ہے کہ اسے اتنی مقدار میں دوا دی جائے کہ یہ ہاتھی تھوڑا سا پرسکون ہو جائے اور اسے چلا کر سڑک کے قریب لے جایا جا سکے جہاں سے ہاتھی کو ٹرک ذریعے ڈھاکہ کے قریب واقع وائلڈ لائف پارک منتقل کر دیا جائے۔تپن کمار کے بقول ’ اسے سڑک کے قریب پہنچانا ایک چیلنج ہے، وہاں سے ہم اسے سفاری پارک منتقل کر دیں گے۔‘ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے حکام نے پولیس بھی تعینات کی تھی۔مقامی لوگوں نے اس ہاتھی کا ’بنگال کا ہیرو‘ نام رکھ دیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…