ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

’’40 گدھے برائے فروخت ‘‘دنیا بھر میں شدت پسندی کو فروغ دینے والی فوج نے اشتہار شائع کرا دیا، کس ملک کی فوج ہے ؟ جانئے

datetime 5  اگست‬‮  2016 |

مقبوضہ بیت المقدس(مانیٹرنگ ڈیسک)فلسطینی اخبارات میں چالیس گدھے برائے فروخت کے عنوان سے ایک اشتہار شائع ہوا ہے۔اس اشتہار میں اور تو خاص بات نہیں سوائے مشتہر ادارے کے،اور وہ اسرائیلی فوج ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے ان کے یہ گدھے مقبوضہ مغربی کنارے کی وادیِ اردن میں کھیتوں میں چرتے ہوئے یا ادھر ادھر آوارہ پھرتے ہوئے پکڑے تھے اور وہ اب ان کو اشتہار کے ذریعے نیلام کررہی ہے اور انھیں ان کے مالکان یا دوسرے فلسطینیوں کو واپس فروخت کررہی ہے۔اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے یہ گدھے ادھر ادھر آوارہ پھرتے ہوئے پکڑے تھے اور انھیں تحفظ عامہ کے پیش نظر اور سڑک حادثات کو کم کرنے کے لیے پکڑ کر ضبط کر لیا گیا تھا۔لیکن فلسطینی ان کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور ان کا کہنا تھا اسرائیلی فوج اردن کی سرحد کے ساتھ واقع وادی میں ضبطی اور مسماری کی ایک پالیسی پر عمل پیرا ہے۔اس کے تحت فلسطینیوں کے مویشیوں کو پکڑا اور ان کے مکانوں کو مسمار کیا جارہا ہے تاکہ انھیں اس علاقے سے مکمل طور پر بے دخل کیا جاسکے اور اس علاقے کو فوج اور یہودی آباد کاروں کے لیے زیر استعمال لایا جا سکے۔ وادی اردن میں پانی کے وافر ذخائر اور زرعی زمین موجود ہے۔اس کو اسرائیل اپنے تزویراتی دفاع کے لیے اہم قرار دیتا ہے۔اسرائیلی فوج نے فلسطینی اخبارات میں شائع شدہ اس اشتہار کے عربی زبان میں مضمون میں کہا ہے کہ اگر گدھوں کے مالکان نے انھیں واپس لینے کا دعویٰ نہ کیا تو انھیں نیلام کردیا جائے گا لیکن ان کو وہ جرمانے کی ادائیگی کے بعد ہی واپس لے سکتے ہیں اور جرمانے کی یہ رقم ان کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔وادی کے علاقے المالح میں ایک مقامی کونسل کے سربراہ عارف دراغمح نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو ایک گدھا واپس لینے کے لیے دو ہزار شیکلز ( 526 ڈالرز) تک رقم ادا کرنا ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے مال مویشیوں کی ضبطی کوئی نئی بات نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…