ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بادشاہوں کا کھیل کون سا ہے اور پاکستان کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے ؟ دلچسپ رپورٹ

datetime 31  جولائی  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا کا سب سے بلند ترین پولو کا گراﺅنڈ چترال میں واقع ہے جہاں سالانہ شندور پولو فیسٹیول منعقد کیا جاتا ہے ۔ چترال میں دنیا میں پولو کے بلند ترین میدان پر سالانہ شندور پولو فیسٹیول اتوار کو اختتام پذیر ہو گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت اور ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے عہدیداران نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پاکستان ٹورازم کارپوریشن کے ساتھ مل کر کھیلوں کے اس اہم ایونٹ کو کامیابی سے یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں سیاحت اور کھیلوں کے فروغ کیلئے اقدامات جاری ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پولو کے کھیل کے فروغ کیلئے بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع چترال کے کئی علاقوں جن میں گرم چشمہ، بونی، شاہگرام اور ریشون شامل ہیں، میں پولو کے گراﺅنڈز کی تعمیر نو کا کام جاری ہے، پولو کے کھلاڑیوں کیلئے صوبائی حکومت کی طرف سے خصوصی پیکج دیا جائے گا تاکہ 148بادشاہوں کے کھیل147 کا چترال میں احیاءہو سکے اور علاقہ میں سیاحت کو بھی فروغ دیا جا سکے۔ شندور پولو فیسٹیول کا آغاز جمعہ کو ہوا تھا۔ ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے عہدیداروں نے 148اے پی پی147 کو بتایا کہ ہر سال یہ فیسٹیول 7 سے 9 جولائی تک منعقد ہوتا ہے لیکن رواں سال عیدالفطر اور بعد ازاں مون سون کی وجہ سے اسے جولائی کے آخر تک موخر کیا گیا۔ شندور پولو فیسٹیول پاکستان میں منعقدہ فیسٹیولز میں کلیدی مقام رکھتا ہے۔ اس فیسٹیول کے دوران گلگت بلتستان اور چترال کی پولو ٹیموں کے درمیان مقابلے ہوتے ہیں۔ فیسٹیول کے موقع پر فوک میوزک، علاقائی رقص اور روایتی کھیلیں بھی منعقد ہوتی ہیں۔ جنوبی ایشیاءمیں پولو کے مقابلوںکا آغاز 13ویں صدی میں مسلمان بادشاہوں نے کیا۔ پولو کا لفظ بلتی میں بال کے مترادف ہے۔ ماضی میں پولو کے کھیل کیلئے کھلاڑیوں کی تعداد مخصوص نہیں ہوتی تھی اور جو ٹیم پہلے 9 گول کرتی تھی وہ فاتح قرار پاتی تھی تاہم آج کل پولو کے کھیل میں ایک ٹیم میں 6 کھلاڑی ہوتے ہیں۔ کھیل کا دورانیہ ایک گھنٹہ کا ہوتا ہے اور درمیان میں دس منٹ کا وقفہ دیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…