ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب کا پہلا برف کا شہر

datetime 31  جولائی  2016 |

ریاض (نیوز ڈیسک)سعودی عرب کے صوبے ریاض کے گورنر نے بدھ کے روز مملکت کے پہلے اور سب سے بڑے “برف کے شہر” کا افتتاح کر دیا۔ ریاض شہر کے علاقے الربوہ میں العثیم مول میں بنائے گئے اس شہر کا رقبہ 5000 مربع میٹر ہے اور اس پر مجموعی طور پر 10 کروڑ ریال کے قریب لاگت آئی ہے۔ برف کے اس شہر میں فی گھنٹہ 350 افراد کی گنجائش ہے۔ اس میں 12 مختلف نوعیت کی تفریحی سرگرمیوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان میں مْعلّق پْل ، آئس اسکیٹنگ ، سیڑھیوں اور رسیوں کے راستے ، چڑھنے کی دیواریں ، آئس بمپر کارز ، اسکائی زون اور مختلف لمبائی کی ڈھلوانیں شامل ہیں۔ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر نے باور کرایا ہے کہ مملکت میں جنرل اتھارٹی فار انٹرٹینمنٹ مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی حکومت داخلی سیاحت کو سپورٹ کرنے کی شدید خواہش رکھتی ہے اور تمام لوگ ملک اور اس کے باسیوں کی خدمت کے واسطے مصروف عمل ہیں۔برف کے اس شہر میں دلچسپ اور مختلف نوعیت کی سرگرمیوں کو منفرد انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ موقع محل کی خوبصورتی اور نفیس ڈیزائننگ کا حسین امتزاج ہے۔ ساتھ ہی اعلی معیار کی خدمات بھی فراہم کی گئی ہیں جن سے آنے والے خواتین و حضرات کو مکمل سکون و راحت کے ساتھ تفریح میسر آئے گی۔ منصوبے کا مقصد تمام لوگوں کو نئی جدت کے حامل کھیلوں کے ذریعے خوش گوار ماحول میں وقت گزارنے کا بہترین موقع فراہم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں برف کی شخصیات اور بطریقPenguine) ) کا بھی شان دار انداز سے پہلی مرتبہ استعمال کیا گیا ہے جو آنے والوں کے خیرمقدم کے حوالے سے بھرپور اور متحرک کردار ادا کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…