ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں نقل روکنے کا انوکھا نسخہ، طلبا کو آدھی آستینیں پہننے کا حکم

datetime 6  جولائی  2016 |

نئی دہلی(نیوزڈیسک)بھارت نے حکام نے میڈیکل کالجوں میں داخلے کیامتحانات کے لیے ڈریس کوڈ متعارف کروایا ہے۔گذشتہ مہینے سپریم کورٹ نے امیدواروں کو پرچہ پہلے سے معلوم ہونے پر چھ لاکھ سے زیادہ امیدواروں کے امتحانات دوبارہ لینے کا حکم دیا تھا۔امتحان دینے والے امیدواروں کو کہا گیا کہ وہ ہلکے کپڑے زیبِ تن کریں۔ قمیض کی آستین آدھی ہو اور بٹن زیادہ بڑے نہ ہوں۔حکام کا کہنا ہے کہ طالب علم کمرہ امتحان میں جوتوں کے بجائے کھلے سلیپر پہنیں۔بھارت میں امتحانات میں نقل کرنے والے طالب علم بلو ٹوتھ آلات اور موبائل سمیں اپنے کپڑوں میں چھپا لیتے ہیں۔گذشتہ کچھ برسوں میں ایئر فون اور قمیض کے بٹنوں میں کیمرا اور مائیکرو ایئر پلگس کے ذریعے نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے والے امیدوارں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ایسے قلم بھی استعمال کیے گئے جو سوالنامے کو سکین کر کے بلیو ٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے تصاویر باہر بھیج سکتے ہیں۔امتحانوں میں نقل کے لیے کچھ ایسے آلات بھی استعمال کیے گئے جس کے ذریعے کمر194 امتحان کے باہر موجود شخص کو سوال بھیجے جا سکتے ہیں اور وہ پھر اس کے جواب بتاتے ہیں۔اس ڈریس کوڈ کے ذریعے سے ان آلات کو چھپانے والی پوشیدہ جگہوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔حکام کی جانب سے یہ ضابطہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب میڈیکل کالج میں داخلے کے امتحانات میں نقل کا سکینڈل سامنے آیا تھا اور ہزاروں افراد گرفتار ہوئے تھا جبکہ کچھ پراسرار ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…