ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

کتنے فیصد خواتین اپنے شوہروں پر اعتبار کرتی ہیں؟ دلچسپ انکشاف

datetime 6  جولائی  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)ازدواجی رشتے میں اعتماد بہت اہمیت رکھتا ہے۔لیکن اس کے باوجود دنیا بھر میں ایسے بہت سے جوڑے ہیں جو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔حال ہی میں ایک برطانوی مارکیٹ ریسرچ کمپنی ون پول کی جانب سے سروے کیا گیا۔ماہرین نے سروے کے دوران 18سے65سال کی عمر کے1000شادی شدہ جوڑوں کا انٹرویو کیا۔سروے رپورٹ کے مطابق ہر 10میں 1فیصد خواتین اپنے شوہروں پر بالکل اعتماد نہیں کرتیں۔علا وہ ازیں باقی9فیصد بھی گاہے بگاہے اپنے شوہروں کے سوشل میڈیا اکانٹس چیک کرتی رہتی ہیں کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں کس سے اور کیا باتیں کرتے ہیں۔تاہم دوسری جانب صرف 3فیصد مرد اپنی بیویوں کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ چیک کرتے ہیں اور 5فیصد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیویوں پر اعتماد نہیں کرتے۔2013 ء میں سی این این کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہر3میں سے1خاتون کا کہنا تھا کہ وہ چوری چوری اپنے شوہر کا فون چیک کرتی ہیں۔مذکورہ بالا رپورٹس کی روشنی میں ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ شادی شدہ زندگی بسر کرنے والے بیشتر جوڑے آپس میں عدم اعتماد کا شکار ہیں جو درست نہیں ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جوڑوں کا آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد نہ کرنا اور چوری چھپے ایک دوسرے کے فونز اور دیگراکانٹس کو چیک کرنا مستقبل قریب میں انکی ازدواجی زندگی کیلئے خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔شادی سے متعلقہ معاملات کے ماہر ٹم لاٹ کی دی گارڈین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کامیاب شادی شدہ زندگی کیلئے جوڑوں کا ایک دوسرے سے بات کرنا اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنا بے حد ضروری ہے۔لاٹ کا کہنا ہے کہ آپ کو اپنی ازدواجی زندگی کی کامیابی کیلئے ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہیے ، اگر آپکا یا آپکی شریک سفر ایک بار آپکا اعتبار توڑ دے تو دوسری مرتبہ کریں اگر پھر توڑ دے تو آپ دوبارہ کریں اور تب تک جاری رکھیں جب تک آپ اسے برداشت کر سکیں۔تاہم انکا مزید کہنا ہے کہ کبھی کبھار شریک سفر کی بے وفائی اور برے رویے کو بھلانا یا اسے معاف کرنا قطعی آسان نہیں ہوتا۔لیکن اس کے باوجود انکا کہنا ہے کہ اپنے رشتے کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے جہاں تک ممکن ہو سکے ایک دوسرے کا اعتماد بحال کرنے کی کو شش جاری رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…