ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ایئر پورٹ کےساتھ مقیم شہری کی عجیب حرکت جس سے جہازوں کے مسافر پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں

datetime 22  جون‬‮  2015 |

نیویارک(نیوزڈیسک) لوگ کسی ذاتی مفاد کی برآوری کے لیے دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں لیکن شاید کچھ لوگوں کو دھوکا دینے کا شوق بھی ہوتا ہے، شاید یہ عمل ان کے لیے تسکینِ طبع کا باعث بنتا ہو۔

ایک امریکی شخص نے لوگوں کے ایک بے ضرر سا دھوکا دینے کا ایک انوکھا طریقہ اپنا رکھا ہے۔ مارک گبن امریکی شہرملووکی میں رہائش پذیر ہے اور اس کا گھر مشعل انٹرنیشنل ایئرپورٹ بالکل پاس ہی واقع ہے۔ مارک نے ہوائی جہاز کے مسافروں کو دھوکا دینے کے لیے اپنے گھر کی چھت پر سیاہ پیٹ کر کے اس پر سفید رنگ سے کلیو لینڈ آنے پر خوش آمدید (Welcome to Cleveland) لکھ دیا ہے، حالانکہ یہ شہر کلیو لینڈ نہیں بلکہ ملووکی ہے، جیسا کہ ہم آپ کو اوپر بتا چکے ہیں۔
اب ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی جہاز مشعل انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لینڈ کرنے لگتا ہے تو مسافروں کی نظر اس کے گھر کی چھت پر پڑتی ہے جہاں لکھا ہوا ہے کہ کلیو لینڈ آنے پر خوش آمدید، اب مسافر گڑبڑا جاتے ہیں کہ شاید وہ غلط فلائٹ پکڑ بیٹھے ہیں، انہیں تو ملووکی جانا تھا اور اسی شہر کی فلائٹ پکڑی تھی لیکن یہ کلیو لینڈ کیسے پہنچ گئے۔
مارک نے اپنے گھر کی چھت پر جو فقرہ تحریر کی ہے اس کے الفاظ عمودا 6فٹ لمبے ہیں، یعنی فضاسے مسافروں کو واضح نظر آتے ہیں۔ مارک نے پہلی اپنی چھت پر 1978میں یہ الفاظ لکھے تھے۔ تب بھی مارک کی اس حرکت نے خبروں میں جگہ بنائی تھی لیکن ایک بارپھر سوشل میڈیا پر اس کی تصویر آنے پر دنیا بھی میں اس پر بحث کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے مارک گبن کا کہنا ہے کہ میں نے یہ الفاظ محض مذاق کے طور پر لکھ رکھے ہیں۔اس نے کہا کہ زندگی کی ریہرسل نہیں ہوتی، یہ صرف ایک بار ملتی ہے، لہذا انسان کو اس سے لطف اندوز ہونا چاہیے اور بھرپور طریقے سے زندگی گزارنی چاہیے۔مارک نے کہا کہ اس تحریر کے حوالے سے قریب واقع ایئرپورٹ کی انتظامیہ یا کسی ایئرلائن کی طرف سے آج تک اسے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…