منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایئر پورٹ کےساتھ مقیم شہری کی عجیب حرکت جس سے جہازوں کے مسافر پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں

datetime 22  جون‬‮  2015 |

نیویارک(نیوزڈیسک) لوگ کسی ذاتی مفاد کی برآوری کے لیے دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں لیکن شاید کچھ لوگوں کو دھوکا دینے کا شوق بھی ہوتا ہے، شاید یہ عمل ان کے لیے تسکینِ طبع کا باعث بنتا ہو۔

ایک امریکی شخص نے لوگوں کے ایک بے ضرر سا دھوکا دینے کا ایک انوکھا طریقہ اپنا رکھا ہے۔ مارک گبن امریکی شہرملووکی میں رہائش پذیر ہے اور اس کا گھر مشعل انٹرنیشنل ایئرپورٹ بالکل پاس ہی واقع ہے۔ مارک نے ہوائی جہاز کے مسافروں کو دھوکا دینے کے لیے اپنے گھر کی چھت پر سیاہ پیٹ کر کے اس پر سفید رنگ سے کلیو لینڈ آنے پر خوش آمدید (Welcome to Cleveland) لکھ دیا ہے، حالانکہ یہ شہر کلیو لینڈ نہیں بلکہ ملووکی ہے، جیسا کہ ہم آپ کو اوپر بتا چکے ہیں۔
اب ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی جہاز مشعل انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لینڈ کرنے لگتا ہے تو مسافروں کی نظر اس کے گھر کی چھت پر پڑتی ہے جہاں لکھا ہوا ہے کہ کلیو لینڈ آنے پر خوش آمدید، اب مسافر گڑبڑا جاتے ہیں کہ شاید وہ غلط فلائٹ پکڑ بیٹھے ہیں، انہیں تو ملووکی جانا تھا اور اسی شہر کی فلائٹ پکڑی تھی لیکن یہ کلیو لینڈ کیسے پہنچ گئے۔
مارک نے اپنے گھر کی چھت پر جو فقرہ تحریر کی ہے اس کے الفاظ عمودا 6فٹ لمبے ہیں، یعنی فضاسے مسافروں کو واضح نظر آتے ہیں۔ مارک نے پہلی اپنی چھت پر 1978میں یہ الفاظ لکھے تھے۔ تب بھی مارک کی اس حرکت نے خبروں میں جگہ بنائی تھی لیکن ایک بارپھر سوشل میڈیا پر اس کی تصویر آنے پر دنیا بھی میں اس پر بحث کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے مارک گبن کا کہنا ہے کہ میں نے یہ الفاظ محض مذاق کے طور پر لکھ رکھے ہیں۔اس نے کہا کہ زندگی کی ریہرسل نہیں ہوتی، یہ صرف ایک بار ملتی ہے، لہذا انسان کو اس سے لطف اندوز ہونا چاہیے اور بھرپور طریقے سے زندگی گزارنی چاہیے۔مارک نے کہا کہ اس تحریر کے حوالے سے قریب واقع ایئرپورٹ کی انتظامیہ یا کسی ایئرلائن کی طرف سے آج تک اسے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…