ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

دادیوں اور نانیوں کے لیے نیا ڈمپنگ قانو ن

datetime 17  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )جاپان میں بڑے شہروں میں نرسنگ سٹاف کی کمی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے بزرگ افراد کی شہروں سے مضافات میں منتقلی کی حوصلہ افزائی کی خاطر ایک نیا قانون زیر غور ہے، جسے ناقدین بزرگوں کی ڈمپنگ کی کوشش کا نام دے رہے ہیں۔ٹوکیو سے منگل سولہ جون کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ملکی حکومت کی کوشش ہے کہ ایک ایسا نیا قانون منظور کرایا جائے، جس کے تحت بڑے شہروں میں رہنے والے بزرگ شہریوں کو یہ ترغیب دی جائے گی کہ وہ بہتر طبی سہولیات کی خاطر مضافاتی علاقوں میں رہائش اختیار کر لیں۔جاپان کے جی جی پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس منصوبے کے تحت حکومت عام طور پر بڑے شہروں اور خاص طور پر بہت زیادہ آبادی والے ملکی دارالحکومت ٹوکیو اور اس کے قرب و جوار میں رہنے والے شہریوں کو یہ سہولت دینے پر بھی تیار ہے کہ اگر ایسے بزرگ شہری دیہی علاقوں میں منتقل ہو جائیں تو وہاں انہیں ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے گی۔اسی منصوبے کے تحت ایک طرف اگر بہت بوڑھے شہریوں کو ایسی طبی نگہداشت کی امید بھی دلائی جا رہی ہے، جسے پیشہ ور نرسنگ سٹاف کی کمی کا سامنا نہ ہو تو ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایسی صورت میں دیہی علاقوں کے بلدیاتی اداروں کو حکومت کی طرف سے نئی مالی اعانتیں بھی دی جائیں گی۔اس پالیسی پروگرام اور اس سے متعلق ممکنہ قانون سازی کا ایک پس منظر یہ ہے کہ جاپان کی آبادی میں بزرگ شہریوں کی شرح مسلسل زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورت حال خاص طور پر صحت عامہ اور سوشل سکیورٹی کے شعبوں پر بہت زیادہ دباو¿ کی وجہ بن رہی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ جاپان میں اگلے ایک عشرے کے دوران بہت بوڑھے مریضوں کے لیے ایک لاکھ تیس ہزار اضافی بستروں کی ضرورت ہو گی۔اس سلسلے میں جاپان کے علاقائی ترقی کے وزیر شی گیر±و ایشی با نے آج منگل کے روز صحافیوں کو بتایا کہ اس حوالے سے جس نئی قانون سازی کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کا ایک مرکزی مقصد شہری علاقوں میں نرسنگ ہومز کی کمی پر قابو پاتے ہوئے بزرگ شہریوں کے لیے مسلسل طبی دیکھ بھال کو یقینی بنانا بھی ہے۔اس جاپانی وزیر نے کہا کہ اس منصوبے کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں جو سال رواں کے آخر تک مکمل ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک ماڈل پراجیکٹ کے طور پر اگلے مالی سال میں متعارف کرا دیا جائے گا۔دوسری طرف اس منصوبے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی سے حکومت بڑے شہروں میں رہنے والے بزرگ افراد کو مضافاتی اور دیہی علاقوں میں رہائش اختیار کرنے کی جو ترغیب دینا چاہتی ہے وہ دراصل ا±وباس±وٹے یاما ہے۔ جاپانی زبان میں اس اصطلاح کا مطلب ہے، گرینی ڈمپنگ یا نانیوں اور دادیوں سے چھٹکارہ پانے کے لیے انہیں کسی جگہ پھینک دینا۔اس کے برعکس علاقائی ترقی کے جاپانی وزیر کے مطابق حکومت شہری علاقوں میں رہنے والے کسی بھی بزرگ مرد یا خاتون کو دیہی علاقوں میں منتقل ہونے پر مجبور نہیں کرے گی تاہم انہیں یہ پیش کش کی جائے گی کہ اگر وہ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔جاپان پالیسی کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2025ئ تک صرف ٹوکیو اور اس کے گرد و نواح میں رہنے والے 75 برس سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کی تعداد 1.75 ملین ہو جائے گی اور تب پورے جاپان میں ایسے عمر رسیدہ شہریوں کی مجموعی تعداد 5.72 تک پہنچ جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…