جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

گوشت کو سبزیوں اور دالوں میں ملا کر استعمال کرنے سے اس کی افادیت میں اضافہ ہوجاتا ہے : حکماء کے اہم مشورے

datetime 8  اگست‬‮  2019 |

لاہور (این این آئی) )عید الاضحی ایک مقدس تہوار ہے ، اس موقع پر دنیا بھرمیں استطاعت رکھنے والے فرزندانِ توحید سنتِ ابراہیمی کی پیروی میں قربانی کرتے ہیں،عیدِ قرباں ایسا موقع ہوتا ہے جس میں تقریباً سب لوگ گوشت کھاتے ہیں بلکہ مشاہدہ کی بات ہے کہ اس موقع پر زیادہ گوشت کھا جاتے ہیں، شہری زندگی میں تو پہلے ہی گوشت کے استعمال میں اضافہ ہو چکا ہے اور اس وجہ سے مختلف امراض کی شرح بھی

بتدریج بڑھ رہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی، حکیم محمد افضل میوور ڈاکٹر سکندر حیات زاہدنے پاکستان طبی کانفرنس کے زیر اہتمام عید الاضحی کے موقع پر گوشت کے استعمال اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے منعقدہ مجلس مذاکر ہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا – پروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی نے کہا کہ ایک تندرست شخص کو روزانہ سو گرام گوشت کھانا چاہیے۔ بکثرت گوشت کھانے سے اسہال ، معدے اور جگر کی بیماریاں، ہائی بلڈ پریشر اور نظام ِ انہضام کی بیماریاں پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ لہٰذا بلڈ پریشر ، ہیپاٹائٹس، معدہ ، جگر اور گردوں کے امراض میں مبتلا افراد زیادہ گوشت کھانے سے گریز کریں۔ پروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی نے کہا کہ عید الاضحی کے موقع پر عام طور پر کلیجی سب سے پہلے پکائی جاتی ہے ۔ لہٰذا کلیجی پکانے سے قبل اس بات کا اطمینان کر لیں کہ کلیجی میں کہیں سوراخ یا چھالے وغیرہ تو نہیں یا اس کی رنگت خراب تونہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔حکیم محمد افضل میو نے کہا کہ گوشت کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے گوشت کھانے کے دوران سرکہ اور دہی کا استعمال اس کے مضر اثرات کو کم کر دیتا ہے۔ نیز گوشت کو سبزیوں اور دالوں میں ملا کر استعمال کرنے سے اس کی افادیت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔اس کے علاوہ گوشت پکانے کے لیے مصالحوں کا استعمال کم سے کم کرنا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…