جمعہ‬‮ ، 01 مئی‬‮‬‮ 2026 

گردوں کے امراض کا باعث بننے والی عام عادتیں

datetime 10  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہیں جبکہ یہ نمک، پوٹاشیم اور ایسڈ لیول کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔ مگر گردوں کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

گردوں کو ہونے والے نقصان کی علامات کافی واضح ہوتی ہیں تاہم لوگ جب تک ان پر توجہ دیتے ہیں اس وقت تک بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔ نشانیاں جو گردوں کے امراض کی جانب اشارہ کریں اور افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر لوگ گردوں کے امراض کو دعوت اپنی چند عادات یا سستی کے باعث دیتے ہیں، جو بظاہر بے ضرر ہوتی ہیں مگر ان پر قابو نہ پانا جان لیوا ہوسکتا ہے۔ جنک فوڈ کا شوق بیشتر پراسیس فوڈ میں نمک بہت زیادہ ہوتا ہے جو کہ نہ صرف دل کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ گردوں کے مسائل کا باعث بنتا ہے۔ جب آپ زیادہ نمک جسم کا حصہ بناتے ہیں تو جسم کے لیے اس اضافی مقدار کا اخراج مسئلہ بن جاتا ہے، جو بتدریج گردوں میں پتھری کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ بلڈ پریشر کنٹرول نہ کرنا ہائی بلڈ پریشر پورے جسم کے ساتھ گردوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، درحقیقت ہائی بلڈ پریشر کے نتیجے میں جب شریانوں پر دباﺅ بڑھتا ہے تو اس کا اثر گردوں پر بھی ہوتا ہے۔ اگر ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں نہ کیا جائے تو اس سے گردوں کی طرف جانے والی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور گردوں میں زخم ہوسکتے ہیں۔ تمباکو نوشی اگر آپ کو لگتا ہے کہ تمباکو نوشی صرف پھیپھڑوں کو ہی نقصان پہنچاتی ہے تو دوبارہ سوچیں کیونکہ ایک طبی تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی سے گردوں میں کینسر کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اسی طرح تمباکو نوشی سے خون کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

پانی کی مناسب مقدار نہ پینا ایک تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی شدید کمی کے نتیجے میں گردے خون میں موجود زہریلے مواد کو فلٹر کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں اور جمع ہونے والا فضلہ گردوں کے فیل ہونے کا باعث بن جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ پانی کی کمی کو دور کرنا گردوں کے امراض سے تحفظ دینے کا آسان طریقہ ہے خاص طور پر درمیانی عمر کے افراد کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ گردوں کے امراض کی 13 خاموش نشانیاں درد کش ادویات کا زیادہ استعمال دردکش ادویات یا ورم کش ادویات

جیسے بروفین یا اسپرین وغیرہ سے گردوں کی جانب دوران خون کم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں اس عضو کو نقصان پہنچتا ہے۔ ایسا نہیں کہ درد ہونے پر دوا نہ کھائیں مگر ان کا بہت زیادہ استعمال کرنے سے گریز کریں۔ جسمانی وزن کو کنٹرول نہ کرنا یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ اضافی جسمانی وزن اندرونی اعضاءپر دباﺅ بڑھاتا ہے، موٹاپے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھتا ہے جس سے بھی گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے، انسولین کے مسائل سے گردوں میں ورم اور زخم کا خطرہ بڑھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص


میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…