منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

اب ’واٹسن‘ کمپیوٹر انوکھے امراض کی تشخیص کرے گا

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی ایم کا مصنوعی ذہانت والا کمپیوٹر واٹسن جرمنی میں ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر طب کے پیچیدہ معاملات کو حل کرنے کی کوششوں میں شرکت کر رہا ہے۔ یہ کمپیوٹر ماربرگ یونیورسٹی ہسپتال کے ناقابل تشخیص اور انوکھی بیماریوں کے مرکز میں رکھا جائے گا۔ اب تک واٹسن

نے نصف درجن مریضوں کا مطالعہ کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کس حد تک درست تشخیص کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ واٹسن وہ کمپیوٹر ہے جس نے 2011 میں امریکہ میں ذہانت کے مقابلے میں دو انسانی چیمپیئنز کو شکست سے دوچار کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔ خیال رہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام کا صحت کے شعبے میں استعمال بڑھ رہا ہے اور گوگل کا ڈیپ مائنڈ نامی کمپیوٹر پہلے ہی سے برطانیہ کے کئی ہسپتالوں میں کام کر رہا ہے۔ ادھر نجی ہسپتالوں کے گروپ رون کلنکم اے جی میں واٹسن کی شراکت رواں سال کے آخر تک متوقع ہے۔گیسن اور ماربرگ یونیورسٹی ہسپتال کا سنہ 2013 میں افتتاح کے بعد سے اب تک چھ ہزار مریضوں کو انتظار کی فہرست میں رکھا گيا ہے۔ ہسپتال میں میڈیکل ٹیم کے سربراہ پروفیسر جورگين شیفر کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کسی برے خواب سے کم نہیں۔ پروفیسر شیفر کا کہنا ہے کہ جو مریض وہاں آتے ہیں ان کی طویل طبی فہرست ہوتی ہے اور ان کا 40 ڈاکٹروں نے پہلے ہی سے معائنہ کر رکھا ہوتا ہے اور ان کی بیماری کی تشحیص نہیں ہو پائی ہے۔ انھوں نے کہا: ’ہمارے یہاں آنے والے مریضوں کے پاس ہزاروں دستاویزات ہونا معمول کی بات ہے اور ہمیں نہ صرف مریضوں کی تعداد بلکہ ان کی رپورٹیں بھی دیکھنی پڑتی ہیں۔ یہ بھوسے کے ڈھیر سے سوئی ڈھونڈنے کے مصداق ہے کیونکہ بہت چھوٹی معلومات بھی درست تشخیص کی جانب لے جا سکتی ہے۔‘ واٹسن مریضوں کی فائلیں

پڑھنے کے علاوہ طبی مواد بھی پڑھے گا اور مختلف قسم کی تشخیص فراہم کرے گا۔ مسٹر شیفر نے کہا کہ وہ اس نظام کے متعلق پرامید ہیں۔ ابھی یہ ہسپتال اس نظام کی جانچ کر رہا ہے اور اس نے واٹسن کو 500 کیس دیکھنے کے لیے فراہم کیا ہے۔

ڈاکٹر شیفر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ نظام صرف نجی ہسپتالوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انھوں نے کہا: ’ہمارے طبی نظام کو ہائی ٹیک ہونا چاہیے اور ہمیں امید ہے کہ یہ طویل مدت میں سستا ہو گا۔۔۔ حکومت کو بھی اس جانب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔’

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…