پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

بہرہ پن کا عارضہ ہر عمر کے افراد کو لاحق ہو سکتا ہے، ماہرین

datetime 13  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بہرہ پن کا عارضہ بڑھاپے میں ہی نہیں بلکہ ہر عمر کے افراد کو لاحق ہو سکتا ہے۔ ماہرین کی رپورٹ کے مطابق بہرہ پن میں 64 برس کے 35 فیصد افراد بھی متاثرہیں جبکہ اس بیماری میں مبتلا ہونے کی علامات میں کانوں میں بھنھناہٹ ہونا،جسمانی توازن کھو دیا،زیادہ بھولنا اور اونچی اوازیں سننے میںتکلیف ہونا شامل ہیں۔ نیویارک میڈیکل کالج کے طبی ماہرین کے مطابق جب یہ واضح ہوجائے کہ کانوں کے ارگرد بھنبھناہٹ یا گھنٹیاں بجتی محسوس ہورہی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کانوں کے اعصاب کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہیڈ فون کا استعمال سننے کی حس کو نقصان پہنچانے میں بڑا کردار ادا کرتا ہے اور نوجوان نسل کو اپنے کانوں پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ہیڈفون پر موسیقی سننے کے بعد کانوں میں بھنبھناہٹ یا گھنٹیاں بجیں تو یہ قوت سماعت کی مستقل محرومی کی طرف قدم ہے۔ماہرین کی رپورٹ کے مطابق جب لوگوں کو سننے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو انہیں سننے کے لیے بہت زیادہ کوشش کرنا پڑتی ہے اور دماغ، جسمانی توازن پر کم توجہ مرکوز کرنے لگتا ہے۔ کانوں کے اندر کا نظام دماغ کو سگنل بھیجتا ہے کہ جسمانی توازن میں مدد دینی چاہئے، تو قوت سماعت میں خرابی کے باعث لڑکھڑاہٹ عام ہونے لگتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یاداشت کا بیشتر انحصار سماعت پر ہوتا ہے اور کم سنانے والے افراد کو چیزوں کو یاد رکھنا بھی مشکل درپیش آتی ہے۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ قوت سماعت میں کمی دماغی تنزلی کا بھی اشارہ ہوتی ہے۔ قوت سماعت سے محرومی اکثر سماجی تنہائی کی جانب لے جاتی ہے جس کے نتیجے میں دماغی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر سننے کی حس متاثر ہو تو دماغ کو یاداشت اور سوچنے کی بجائے اپنی اضافی توانائی آواز کو سمجھنے میں صرف کرنا پڑتی ہے، جس سے یہ دونوں افعال متاثر ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہرہ پن کی ابتدائی علامات میںگاڑیوں کا ہارن تیز اور بیزار کن اور تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ ان آوازوں سے کانوں کو نقصان ہونے لگتا ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…