پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

لاروا تھیراپی زخموں کی صفائی اور زخموں کے جلدی بھرنے میں معاون ہے

datetime 9  دسمبر‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک) برطانیہ کے ڈاکٹروں نے میگوٹس(کیڑے) سے بھرے ٹی بیگس کو کرونک زخموں کے موثر اور جلد علاج کے لیے کارگر گردانتے ہیں۔ یہ ٹی بیگس ہسپتال کی بجائے ایک چھوٹی سے انڈسٹری میں تیار کیے جاتے ہیں جنہیں چھوٹے چھوٹے میگوٹس سے بھرا جاتا ہے۔ عام طور پرجسم اپنے زخموں کو خود بھرنے کی کوشش کرتا ہے جسے آٹولائسز کہتے ہیں جس میں جسم کا مدافعتی نظام نمی بنا کر زخموں کو نرم کرتا ہے پھر اس کے اوپر آکٹھے ہونے والے مردہ سیلز کے مواد کو صاف کر دیتا ہے۔ زخموں کے اوپر اکٹھے ہونے والے مواد کو ہٹانے کے اور بھی طریقے ہیں جس میں سرجری بھی شامل ہیں۔ سرجری میں ڈاکٹرز زخموں کے اوپر اکٹھے ہوئے مردہ سیلز مواد کو سکیپل، بہت زیادہ پریشر سے صفائی،کیمیکلز یا الٹرا ساﺅنڈ کے استعمال سے ہٹاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سب طریقوں میں صحت مند ٹشوز کے لیے خطرہ ہوتا ہے۔ میگوٹی تھیراپی یا لاروا تھیراپی زخموں کو صاف کرنے کا ایک دوسرا آپشن ہے۔ پہلی دفعہ میگوٹی تھیراپی کو پہلی جنگ عظیم میں سپاہیوں کے زخموں کو جلدی بھرنے اور صاف کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاروا تھیراپی استعمال کرنے کے بہت سے فائدے ہیں جو صرف متاثرہ اور مردہ سیلز کو ہی نشانہ بناتی ہے۔ میگوٹس برطانیہ میں پائے جانے والے عام کیڑے ہیں جو زخموں میں خاص قسم کے انزائمز پیدا کرتے ہیں جو مردہ ٹشوز کو نرم بنا کر محلول بنا دیتے ہیںجنہیں یہ کیڑے خوراک کی طرح پی سکتے ہیں۔ میگوٹس میں دانتوں کی طرح کے سانچے ہوتے ہیںجس سے یہ اپنی خوراک کو پکڑتے ہیں۔ میگوٹس کے ٹی بیگس کو بائیو بیگ کہا جاتا کو زخموں پر براہ راست لگایا جاتا ہے۔ میگوٹس کی یہ ٹیکنالوجی کو بائیومونڈ نیشنل ہیلتھ سروسز نے بنائی ہیں۔ ان بائیو بیگس کی قیمت 200 سے 300 یوروز ہیں اور ہر بیگ کو ایک برف کی تھیلی میں پیک کیا جاتا ہے۔ یہ بائیو بیگس پانچ سائز میں دستیاب ہیں ان میں سب سے چھوٹا سائز 2.5 سنٹی میٹر جبکہ سب سے بڑے ٹی بیگس کا سائز 10 سنٹی میٹر بڑا ہے۔اس تھیراپی کو 55 سالہ خاتون پر 2014 میں آزمایا گیا تھاجس کے پاﺅں اور ٹانگوں پر زخم نہ بھرنے کی وجہ سے السر بن گیا تھا۔ ان ٹی بیگس کو اس خاتون کی پاﺅں کے زخم پر براہ راست لگایا گیا اور دس دن کی لاروا تھیراپی کے بعد اس کا زخم مکمل ٹھیک ہو گیا۔خاتون کا کہناتھا تھیراپی کا احساس چبھن بھرا تھا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…