جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

مائیں بچے کی پیدائش کے بعد ذہنی تناﺅ کا شکار ہو جاتی ہیں

datetime 8  دسمبر‬‮  2015
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن(نیوز ڈیسک ) برطانوی ماہرین کی تحقیق کے مطابق تین چوتھائی مائیں اپنے بچے کی پیدائش کے بعد ذہنی تناﺅ کی ایک کیفیت’پوسٹ ننٹل‘ کا شکار ہوتی ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہا اپنی ماں بننے کی قابلیت پر سوال اٹھنے کی وجہ سے تناﺅکا شکار مائیں ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتیں جس سے بہت سی مائیں خاموشی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق 700 مائیوں میں اس تنا? کا بعد از ان کے بچے کی پیدائش کے مشاہدہ کیا گیا ہے جس کی وجہ ماہرین کے مطابق بچے کو ماں کا دودھ پلانا بھی ہو سکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 74 فیصد مائیں اپنے تناﺅ کے علاج کروانے میں پریشانی کا سامنا کرتی ہیں جبکہ 72 فیصد خواتین کو لگتا ہے کہ اس تناﺅ سے بیمار ہو کر اپنے خاندان کا خیال نہیں رکھ پا رہی۔ پوسٹ ننٹل تنا? کی علامات میں ناخوشی،بھوک کا کم لگنا، کم خوابی اور خود اعتمادی کم ہو جانا شامل ہے جو بچے کی پیدائش اور ماں کے دودھ پلانے کی وجہ سے ہارمونز کے لیول میں تبدیلی سے پیدا ہوتی ہیں۔ ماہرین کی رپورٹ کے مطابق 65 فیصد مائیوں کا کہنا ہے کہ یہ ذہنی تنا? ایک پرفیکٹ ماں بننے کی تگ و دو کا نتیجہ ہے جبکہ 56 فیصد مائیوں کا کہنا ہے کہ یہ تنا? بچے کی تکلیف دہ پیدائش کی وجہ سے ہے، 84 فیصد مائیوں کا خیال ہے کہ بچے کو دودھ پلانے سے جبکہ 46 فیصد مائیوں کا کہنا ہے کہ اپنے بچے کی دیکھ بھال اور زیادہ محبت اس تناﺅ کی وجہ ہے۔ 38 سالہ پوسٹ ننٹل تناﺅ کا شکار ابے موری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کی پیدائش کے بعد 6 ماہ سے پوسٹ ننٹل تناﺅ کا شکار ہے اور اپنی بیماری کا علاج کروا رہی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ جب وہ تناﺅ کی ادویات لینا بند کر دیتی ہے تو پوسٹ ننٹل تناﺅ کی علامات واضح ہو جاتی ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ اس تناﺅ کی وجہ سے وہ کئی بار اپنے گھر والوں سے چوری چھپے رویا کرتی تھی۔ ماہرین کے مطابق مائیوں کا پوسٹ ننٹل تناﺅکا شکار ہونا بچے کی پیدائش کے ساتھ جڑا ہوا ہے تاہم مائیوں کو اپنے اس تناﺅ کے علاج کے لیے ڈاکٹروں سے مشورہ لینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے علاج کروانے سے ماں بننے کی قابلیت پر کوئی سوال نہیں اٹھائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…