منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

مائیں بچے کی پیدائش کے بعد ذہنی تناﺅ کا شکار ہو جاتی ہیں

datetime 8  دسمبر‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک ) برطانوی ماہرین کی تحقیق کے مطابق تین چوتھائی مائیں اپنے بچے کی پیدائش کے بعد ذہنی تناﺅ کی ایک کیفیت’پوسٹ ننٹل‘ کا شکار ہوتی ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہا اپنی ماں بننے کی قابلیت پر سوال اٹھنے کی وجہ سے تناﺅکا شکار مائیں ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتیں جس سے بہت سی مائیں خاموشی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق 700 مائیوں میں اس تنا? کا بعد از ان کے بچے کی پیدائش کے مشاہدہ کیا گیا ہے جس کی وجہ ماہرین کے مطابق بچے کو ماں کا دودھ پلانا بھی ہو سکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 74 فیصد مائیں اپنے تناﺅ کے علاج کروانے میں پریشانی کا سامنا کرتی ہیں جبکہ 72 فیصد خواتین کو لگتا ہے کہ اس تناﺅ سے بیمار ہو کر اپنے خاندان کا خیال نہیں رکھ پا رہی۔ پوسٹ ننٹل تنا? کی علامات میں ناخوشی،بھوک کا کم لگنا، کم خوابی اور خود اعتمادی کم ہو جانا شامل ہے جو بچے کی پیدائش اور ماں کے دودھ پلانے کی وجہ سے ہارمونز کے لیول میں تبدیلی سے پیدا ہوتی ہیں۔ ماہرین کی رپورٹ کے مطابق 65 فیصد مائیوں کا کہنا ہے کہ یہ ذہنی تنا? ایک پرفیکٹ ماں بننے کی تگ و دو کا نتیجہ ہے جبکہ 56 فیصد مائیوں کا کہنا ہے کہ یہ تنا? بچے کی تکلیف دہ پیدائش کی وجہ سے ہے، 84 فیصد مائیوں کا خیال ہے کہ بچے کو دودھ پلانے سے جبکہ 46 فیصد مائیوں کا کہنا ہے کہ اپنے بچے کی دیکھ بھال اور زیادہ محبت اس تناﺅ کی وجہ ہے۔ 38 سالہ پوسٹ ننٹل تناﺅ کا شکار ابے موری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کی پیدائش کے بعد 6 ماہ سے پوسٹ ننٹل تناﺅ کا شکار ہے اور اپنی بیماری کا علاج کروا رہی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ جب وہ تناﺅ کی ادویات لینا بند کر دیتی ہے تو پوسٹ ننٹل تناﺅ کی علامات واضح ہو جاتی ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ اس تناﺅ کی وجہ سے وہ کئی بار اپنے گھر والوں سے چوری چھپے رویا کرتی تھی۔ ماہرین کے مطابق مائیوں کا پوسٹ ننٹل تناﺅکا شکار ہونا بچے کی پیدائش کے ساتھ جڑا ہوا ہے تاہم مائیوں کو اپنے اس تناﺅ کے علاج کے لیے ڈاکٹروں سے مشورہ لینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے علاج کروانے سے ماں بننے کی قابلیت پر کوئی سوال نہیں اٹھائے گا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…