پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

تپ دق کا مہلک مرض دوبارہ اپنے پنجے کیوں گاڑ رہا ہے

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) عالمی ادارہ صحت کے تازہ اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے ایک قابل تحفظ اور قابل علاج متعدی بیماری کو دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز بننے دیا ہے۔ ہزارہا سال پرانی بیماری تپ دق یا ٹی بی اپنی ہلاکت خیزی کی تعداد میں ایچ آئی وی /ایڈز کو پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1950کی دہائی میں اس بیماری میں مبتلا لوگوں کا کامیابی سے علاج کیا جانے لگا تھا تو کیا وجہ ہے کہ ابھی تک یہ بیماری لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے۔ ”نیویارک ٹائمز“ کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ٹی بی ایک متعدی مرض ہے اور اس کا علاج نہ کیاجائے تو اس کا ایک مریض سال بھر میں مزید 10سے 15لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کی موجودہ ویکسین کافی حد تک غیر موثر ہے اور جہاں پہلے پہل لوگ اس کے علاج کیلئے جاتے ہیں وہاں اس کے سادہ سے ٹیسٹ کی سہولت بھی نہیں ہوتی۔ نئی دواﺅں کی تیز رفتار تیاری کے باعث دواﺅں کیخلاف مزاحمت کرنے والے عناصر بھی پھیل رہے ہیں اور ادویات کیخلاف مزاحمت کرنے والی ٹی بی کا علاج صبر آزما اور بسا اوقات انتہائی مضر ذیلی اثرات کا حامل ہوتا ہے۔ یہ چیلنجز حقیقی ہیں لیکن اس ضمن میں سب سے بڑا چیلنج طبی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔
دیکھئے شیریں مزاری کی بیٹی نے پی ٹی آئی کو کس طرح بدنام کر کے رکھ دیا
اپنی ہلاکت خیزی کے حوالے سے ٹی بی کی بیماری دنیا بھر میں اس فہرست میں اوپر جا رہی ہے جبکہ سیاسی ترجیحات میں اسے سب سے نیچے رکھا جاتا ہے۔ اس معاملے میں اوباما انتظامیہ کی مثال ہی کافی ہے جو اس ضمن میں بہت کچھ کر سکتی ہے اور اسے کرنا بھی چاہیے۔ مسلسل چار برس سے ایسا ہو رہا ہے کہ بجٹ بارے صدر کی مجوزہ درخواست میں ٹی بی کیلئے بین الاقوامی فنڈنگ میں کمی کیلئے کہا جا رہا ہے اور صرف اسی برس ہی گزشتہ برس میں اس کام کیلئے مختص کئے جانے والی 236ملین ڈالر میں سے 45ملین ڈالر کٹوتی کی تجویز دی گئی۔ خوش قسمتی سے کانگریس یہ جانتی ہے کہ عالمی سطح پر ٹی بی کا خطرے کا سدباب کرنے میں امریکا کا کیا کردار ہے اس لئے دنوں جماعتوں کے ارکان نے صدر کی مجوزہ کٹوتی کو مسترد کر دیا۔ یونائیٹڈ سٹیٹس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ٹی بی کے مسئلے کا سامنا کرنے والے ممالک کو بوجھ بٹاتی ہے تاکہ وہ اس کا بہتر اعدودشمار حاصل کر سکیں، اپنی سروس کا معیار بہتر کر سکیں اور تشخیص کے نئے ذرائع اختیار کرتے ہوئے نئے ادویات فراہم کر سکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اوباما انتظامیہ اس موقع پر اپنا موثر کردار ادا کرے اور اس مہلک بیماری کیخلاف جنگ کو اپنی ترجیح بنائے۔

مزید پڑھئیے:ذولفقار مرزا کے ایان علی اور آصف زرداری کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…