اسلام آباد (نیوز ڈیسک )برطانیہ میں سائنسدانوں نے ایسے خوردبینی’گرینیڈ‘ ڈیزائن کیے ہیں جو ٹیومرز یعنی کینسر زدہ پھوڑوں کو ختم کرنے کےلیے دوا سے بھرے ہوئے اپنے ہتھیاروں کو پھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سائنسدانوں کی یہ ٹیم اپنی تحقیقات اگلے ہفتے نیشنل کینسر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ایک کانفرنس میں پیش کرے گی۔ان کا منصوبہ ہے کہ وہ لپسومز یعنی چربی کے نہایت مہین بلبلوں کو جو بدن میں اشیا پھیلاتے ہیں کو استعمال کر کے جب ان کا درجہ حرارت بڑھ جائے تو زہریلی ادویات کا اخراج کریں گے۔ان ’گرینیڈز‘ کا مقصد یہ کہ ان کے ذریعے ادویات کےمنفی اثرات سے بچا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کے ادویات صرف ٹیومر کو ہدف بنائیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جو جانوروں پر تجربات میں کارآمد رہی ہے نینو میڈیسنز کے لیے ہولی گریل جیسا یعنی نہایت مقدس درجہ رکھتی ہے۔
کینسر پر کام کرنے والے سائنسدان چربی کے ان ذروں کے ذریعے زہریلے ادویات پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔یونیورسٹی آف مانچسٹر کے پروفیسر کوستاس کوستاریلوس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مشکل یہ ہے کہ آپ ان کو ہدف تک پہنچنے کے بعد کیسے خارج کریں گے؟‘
مانچسٹر کے نینومیڈیسن لیب نے ایسے لپسومز ڈیزائن کیے ہیں جو نارمل جسمانی حرارت پر واٹر ٹائیٹ یعنی پانی سے محفوظ رہتے ہیں۔ تاہم جب درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ پر پہنچتا ہے تو یہ لیک ہونے لگتے ہیں۔پروفیسر کوستاریلوس کہتے ہیں کہ ’ہمارے لیے چیلنج یہ ہے کہ ہم ایسے لپسومز بنائیں جو 37 ڈگریز سینٹی گریڈ پر مستحکم رہیں اور کینسر کی ادویات کو خارج نہ کریں اور پھر 42 ڈگری سینٹی گریڈ پر یکدم ان کو خارج کر دیں۔‘ان کا کہنا ہے کہ بدن کی کھال ، سر یا گردن کے کینسر پر ہیٹ پیڈ رکھ کر ٹیومر کو ہلکے سےگرم کیا جا سکتا ہے۔پروبز جسم کے اندر ٹیومرز کو گرم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیومرز کو گرم کرنے کے لیے الٹرا ساو¿نڈ کے استعمال پر بھی غور ہو رہا ہے۔ابتدا میں میلانوما کینسر سے متاثرہ چوہوں پر کیے گئے تجربات میں تھرمل گرینیڈز کے استعمال میں ٹیومرز نے ادویات کی ’بڑی مقدار‘ لی جس کا نتیجہ سروائیول ریٹ میں ’معتدل بہتری‘ کی شکل میں سامنے آیا۔پروفیسر کوستاریلوس کا کہنا ہے کہ ایسی ہی ٹیکنیک مریضوں پر استعمال کی جا رہی ہے اور یہ ’کوئی خواب نہیں‘۔کانفرنس کے چئیرمین پروفیسر چارلز سوانٹن کا کہنا تھا کہ ہدف شدہ لپسومز نینو میڈیسنز کے لیے ’ہولی گریل‘ جیسا یعنی نہایت مقدس درجہ رکھتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان تحقیقات سے پہلی مرتبہ یہ ظاہر ہوا ہے کہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لیےانہیں کس طرح بنایا جا سکتا ہے جو کہ کئی قسم کے جدید طریقہ علاج یا ٹریٹمنٹ کے راستے عیاں کر سکتے ہیں۔ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن یہ لپسومز صحت مند خلیوں کوچھوڑ کر صرف کینسر کے خلیوں کو ہدف بنانے میں موثر ہو سکتی ہے۔
کینسر کے علاج کے لیے خوردبینی ’گرینیڈ‘ تیار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
لوڈ شیڈنگ کب ختم ہوگی؟ وزیر توانائی نے بتا دیا
-
ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
اسلحہ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل حل کر دی گئی
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیوں میں کمی! طلبا کے لئے بڑی خبر آگئی
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
پیٹرول کوٹہ ؛بڑی پیشرفت سامنے آگئی
-
اسلام آباد،دو گروپس میں مسلح تصادم، دو بھائی جاں بحق
-
اقرار الحسن نے اے آر وائی سے استعفیٰ دے دیا
-
گرمی کے بعدبارشوں کی پیشگوئی، مختلف اضلاع میں الرٹ جاری
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی اضافہ ریکارڈ



















































