جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

بازو پر گیارہ سے زیادہ تل کینسر کا خطرہ تو نہیں ؟

datetime 19  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) برطانیہ میں ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اگر ایک بازو پر گیارہ سے زیادہ تل ہوں تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایسے شخص کو معمول سے زیادہ ’میلانوما‘ یا جلد کے کینسر کا خطرہ لاحق ہے اور دائیں ہاتھ پر تلوں کی گنتی کرنے سے پورے جسم کے تلوں کی تعداد کا بھی پتہ کیا جا سکتا ہے۔ اس تحقیق کو برٹش جرنل آف ڈریمولوجی میں شائع کیا گیا ہے جس میں تین ہزار جڑواں لڑکیوں کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ڈاکٹر اس دریافت کی مدد سے ان افراد کی نشاندہی آسانی سے کر سکتے ہیں جنہیں جلد کے کینسر یا میلانوما کا زیادہ خطرہ ہو۔ میلانوما ایک طرح کا جلد کا کینسر ہے جو جلد کی خلیوں میں خرابی کے سبب خطرناک پھوڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ برطانیہ میں ہر برس تقریباً 13 ہزار افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بیماری عام طور پر بدن میں پائے جانے والے غیر معمولی تل سے پنپتی ہے۔ اسی لیے میلانوما ہونے کے خطرے کا تعلق تلوں کی تعداد سے ہے، یعنی اگر کسی کو بہت زیادہ تل ہیں تو اسے اس بیماری سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ بھی ہے۔ لندن میں کنگز کالج کے محقیقین نے اس کے لیے آٹھ برس تک بڑی تعداد میں جڑواں لڑکیوں پر کام کیا اور ان کے جسم کی جلدکی نوعیت، اس پر پڑے دھبوں اور تلوں سے متعلق تحقیق کی۔ پھر بعد میں میلانوما سے متاثر چار سو افراد پر مشتمل مرد اور خواتین کے ایک گروپ پر اس تجربے کو دہرایا گیا جس سے انہیں اس طرح کے کینسر کے خطرے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ایک تیز اور آسان طریقہ ملا۔ جن خواتین کے دائیں بازو پر سات سے زیادہ تل تھے ان کے جسم میں پچاس سے زیادہ تل ہونے اور نو گنا بیماری کا خطرہ تھا اور جن کے دائیں بازو پر گیارہ تل ہوں ان کے جسم بھر میں 100 سے زائد تل پائے گئے اور اس طرح انہیں اس بیماری کا اور زیادہ خطرہ ہوگا۔ اس موضوع پر تحقیق کرنے والے کنگز کالج کے سینیئر رکن سائمن ریبیرو کا کہنا ہے یہ دریافت ابتدا میں اس سے متعلق احتیاط برتے میں بہت کارآمد ثابت ہوسکتی ہے، عام ڈاکٹر بھی اس طریقے سے مریض کے جسم میں تلوں کی صحیح تعداد کا جلدی سے درست تخمینہ لگا سکتے۔ اس تحقیق سے وابستہ ٹیم کے ایک دوسرے رکن ویرونک بیتیلی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کسی ایک غیر معمولی تل سے پریشان ہے اور اس وجہ سے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا تو اس کے ایک بازو پر تل کی تعداد سے ہی خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے اور اس سے پھر وہ بلا تاخیر مخصوص ڈاکٹر کے پاس علاج کے لیے جا سکتا ہے۔ برطانیہ میں کینسر ریسرچ سے متعلق ادارہ سے وابستہ ڈاکٹر کلیئر نائٹ کا کہنا ہے یہ تحقیق کسی حد تک مددگار تو ہے لیکن یہ کوئی ضروری نہیں کہ میلانوما نامی بیماری بدن پر پائے جانے والے تل سے ہی پنپتی ہے۔ ان کہنا تھا کہ جلد کے ایسے کینسر کے کیسز نصف سے بھی کم تل سے پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میلانوما تو جسم کے کسی بھی حصے پر تل کے بغیر بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…