منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ایک ماہ میں تنخواہ دار طبقے نے کتنا ٹیکس دیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 17  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال کے پہلے ماہ جولائی 2026 میں تنخواہ دار طبقے سے **44 ارب روپے انکم ٹیکس** وصول کیا،

جو گزشتہ مالی سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 2 ارب روپے زیادہ ہے۔ایف بی آر حکام کے مطابق جولائی 2025 میں تنخواہ دار طبقے سے 42 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا تھا، جبکہ جولائی 2024 میں یہ رقم تقریباً 30 ارب روپے رہی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس وصولی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں بعض بلند آمدنی والی تنخواہ دار طبقے کی سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کے باوجود جولائی میں ٹیکس وصولی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

حکومت نے سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے آمدنی والی سلیب پر انکم ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کردی تھی، جبکہ 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والی سلیب پر شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد مقرر کی گئی۔اسی طرح سالانہ 41 سے 56 لاکھ روپے آمدنی پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد جبکہ 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والی سلیب پر شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کردی گئی۔دوسری جانب ایف بی آر کے مطابق جولائی 2026 میں جائیداد کی خرید و فروخت کے لین دین میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ گزشتہ ماہ جائیداد کے تقریباً 90 ہزار لین دین ریکارڈ کیے گئے،

جبکہ جولائی 2025 میں یہ تعداد 60 ہزار کے قریب تھی۔اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران جائیداد کی خرید و فروخت کے لین دین میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جائیداد کے لین دین پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی مد میں 15.5 ارب روپے وصول کیے گئے۔ایف بی آر حکام کے مطابق ٹیکس وصولی میں اضافے اور جائیداد کے لین دین میں بڑھتی سرگرمیوں سے رواں مالی سال کے دوران محصولات میں بہتری کی توقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…