پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی بڑی جیت، چاول برآمدگی کیس میں بھارت کی اپیل خارج

datetime 13  اگست‬‮  2026 |

سڈنی/اسلام آباد(این این آئی) پاکستان کو باسمتی چاول کے برآمدی حقوق کے معاملے میں اہم قانونی کامیابی مل گئی،

جہاں آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے بھارتی ادارے ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی باسمتی سے متعلق ٹریڈ مارک اپیل مسترد کردی۔آسٹریلوی عدالت نے بھارتی اتھارٹی اپیڈا کو مخالف فریق کے قانونی اخراجات ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے، آسٹریلوی وفاقی عدالت ٹریڈ مارک رجسٹرار کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔پاکستان کی وزارتِ تجارت نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریلوی عدالت کا فیصلہ باسمتی کے معاملے پر پاکستان کے اصولی اور مستقل مؤقف کی تائید کرتا ہے۔وزارتِ تجارت کے مطابق بھارتی ادارے اپیڈا نے آسٹریلیا میں باسمتی کو سرٹیفکیشن ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست دی تھی، تاہم آسٹریلوی رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس نے 22 دسمبر 2022 کو درخواست مسترد کردی تھی۔

رجسٹرار کے فیصلے کے خلاف اپیڈا نے آسٹریلیا کی وفاقی عدالت سے رجوع کیا تاہم عدالت نے بھارتی ادارے کی اپیل بھی مسترد کردی ہے، بھارت کے ادارے اپیڈا نے آسٹریلیا میں باسمتی کو چاول کے لیے سرٹیفکیشن ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست دی تھی۔آسٹریلوی رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس کے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ باسمتی ایسا لفظ نہیں جس کے ذریعے صرف اپیڈا سے تصدیق شدہ چاول کو دوسرے ممالک میں قانونی طور پر پیدا اور فروخت ہونے والے باسمتی چاول سے الگ کیا جاسکے۔پاکستان کی وزارتِ تجارت کے مطابق آسٹریلوی رجسٹرار کے ابتدائی فیصلے میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا تھا کہ باسمتی چاول پاکستان میں بھی پیدا ہوتا ہے اور پاکستانی تاجروں کو بھی باسمتی کا نام استعمال کرنے کا مساوی اور جائز حق حاصل ہے۔وفاقی عدالت کی جانب سے اپیڈا کی اپیل مسترد کیے جانے کے بعد یہ مؤقف برقرار رہا ہے۔پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ باسمتی ایک ایسی جغرافیائی شناخت ہے جو تاریخی طور پر پاکستان اور بھارت کے بعض علاقوں پر مشتمل خطے سے وابستہ ہے، اس لیے کسی ایک ملک یا ادارے کو اس نام پر مکمل اجارہ داری نہیں دی جاسکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…