جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ حکومت نے لاکھڑا سے ہزاروں ٹن کوئلہ بغیر بولی بیچ دیا،جانتے ہیں کل مالیت کتنی ہے؟

datetime 20  جون‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)سندھ حکومت نے غیرقانونی طور پر لاکھڑا کوئلہ کی کان سے ہزاروں ٹن کوئلہ نکال کر فروخت کردیا جبکہ سرکاری ترجمان نے الزامات ماننے سے انکار کردیا۔سندھ حکومت نے بغیر بولی لاکھڑا کان سے کئی ٹن کوئلہ نکال کر غیر قانونی طورپرمارکیٹ میں فروخت کردیا،کان کے وکرروں کی یونین کے رہنما ممتاز کھوسو نے اس ضمن میں بتایا کہ 21مئی کی رات پولیس کی بھاری کی نفری

اور مقامی انتظامیہ نے کان پر قبضہ کرلیا۔ اس سے قبل کان لاکھڑا ڈویلپمنٹ کمپنی چلارہی تھی جو وفاقی وزارت پیٹرولیم کے تحت کام کرتی تھی۔ممتاز کھوسو کے مطابق صوبائی حکومت نے ہماری لیز منسوخ کردی جس کے خلاف کھوسو نے درجنوں ساتھیوں کے ساتھ مل کر نیشنل ہائی وے پر احتجاج بھی کیا۔کول کمپنی ذرائع کے مطابق 20سے 22ہزار ٹن کوئلہ کان سے نکال کر 6 ہزار 575روپے فی ٹن کے حساب سے کوئلہ مارکیٹ میں فروخت کیا گیا۔ایک سینئر آفیسر کے مطابق صوبائی حکومت نے بولی کے اصول بھی نہیں اپنائے ۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت ضلعی انتظامیہ کے ذریعے کوئلہ مارکیٹ میں فروخت کیا۔سندھ کے وزیر توانائی امتیاز شیخ نے بتایا کہ لاکھڑا ڈویلپمنٹ کمپنی کان کے وسائل کا غلط استعمال کرتے ہوئے کوئلہ مارکیٹ میں فروخت کررہی تھی ۔انہوں نے بتایا کہ یہ زمین سندھ حکومت کو لیز کی مدت نہ بڑھانے کا اختیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ ماہ ٹینڈرز طلب کرلیں گے ملازمین کے مستقبل بار ے وزارت قانون سے مشاورت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اب نئی کمپنی بنائی جارہی ہے جس کا نام سندھ لاکھڑا کول مائننگ کمپنی ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…