منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان بزنس کونسل نے آئی ایم ایف پروگرام ‘ناگزیز’ قرار دے دیا

datetime 11  جولائی  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے انتخابات کے تناظر میں 100 دن پر مشتمل اقتصادی ایجنڈے کا اعلان کرتے ہوئے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے منصوبے کو ملکی معیشت کے لیے ناگریز قرار دے دیا۔ پی بی سی کے چیف ایگریکٹو احسان ملک نے واضح کیا مختصر المیعاد قرضے پر انحصار نہیں کیا جا سکتا تاہم آئی ایم ایف کا معاشی پروگرام ناگزیز ہے۔

اس لیے حکومت اور اپوزیشن موقعے سے فائدہ اٹھائیں تاکہ مقامی صنعت کی بقاء ممکن ہو سکے۔ آئی ایم ایف کا دباؤ: بجلی صارفین پر 3 سرچارجز لگانے کی تیاری انہوں نے کہا کہ ’مختصر دورانیے کے قرضوں کا مقصد بحران سے بچنے کے لیے ’سہارا‘ دینا ہوتا ہے جبکہ ملک میں ابتر اقتصادی صورتحال کو مستقل طور پر ’ٹھیک‘ کرنے کے لیے ہر دوسرے اور تیسرے سال آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑتا ہے، جس کی بنیادی وجہ ہمارے اقتصادی نظام کی خرابیاں ہیں۔ احسان ملک نے کہا کہ پاکستان کو سالانہ 30 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنی ہوں گے اور ملکی برآمدات میں اجناس کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات شامل ہونی چاہیے جبکہ ملک میں 20 کروڑ شہری مسابقت کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبے (اسپیشل اکنامکس زون) کے تحت مقامی صنعت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے تاہم اس کے تحت ملازمت، برآمد اور درآمد میں اضافہ ہونا چاہیے اور اس میں مکمل شفافیت بہت ضروری ہے۔ ‘آئی ایم ایف، عالمی اور ایشین بینک بھی امریکا کے ہتھیار ہیں‘ احسان ملک نے کہا کہ ’تجارتی معاہدوں سے ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہونا چاہیے جس کے ذریعے برآمدات میں اضافہ اور خام مال کی درآمدات بڑھائی جائیں تاکہ مصنوعات کی تیاری ملک میں ممکن ہو سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چائینا کے ساتھ ایف ٹی اے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہےتاکہ مطلوبہ ہدف کا حصول ممکن ہو اور تجارتی خسارے سے باہر نکل سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکی، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے نتیجے میں مقامی ملازمت کی صنعت متاثر نہ ہو۔ اس حوالے سے پی بی سی کے چیف ایگزیکٹو نے مزید کہا کہ موجودہ ڈیٹا بیس کی بنیاد پر اقتصادی امور سے متعلق دستاویزات کی تیاری کا عمل تیز ہونا چاہیے۔

تاہم ٹیکس پالیسی کو ٹیکس وصولی سے علیحدہ رکھا جائے تاکہ مالی سال پر مشتمل پالیسی میں تنزلی کے اشاریوں میں کمی آئے اور طویل المعیاد ترقی کے امکانات روشن ہوں۔ امریکا نے پاکستان کیلئے 25 کروڑ ڈالر سے زائد عسکری امداد روک دی احسان ملک نے تجویز دی کہ کوپریٹ ٹیکس ریٹ میں بتدریج 25 فیصد کمی لائی جائے جبکہ ملک کی کمزور معیشت کے لیے 17 فیصد سیلز ٹیکس ریٹ بہت زیادہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…