پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

درآمدی روئی کے باعث مارکیٹ میں بحران: کاروباری حجم کم ہو گیا

datetime 1  اپریل‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے بھائو میں اتار چڑھائو کے بعد مجموعی طورپر استحکام رہا۔ ٹیکسٹائل واسپننگ ملز کی جانب سے محتاط خریداری اور جنرز کی جانب سے اچھی کوالٹی کی روئی کے زیادہ بھائو طلب کرنے کی وجہ سے کاروباری حجم بھی کم ہوگیا اسکی ایک وجہ تو یہ بتائی جاتی ہے کہ دن بدن اچھی کوالٹی کا سٹاک کم ہوتا جارہا ہے ۔

دوسری جانب ٹیکسٹائل ملز کے بڑے گروپ بیرون ملک سے روئی کے درآمدی معاہدے ہنوز کررہے ہیں خاص طور پر امریکا سے ری کیپ روئی جو کم داموں میں دستیاب ہے اسکے معاہدے ہورہے ہیں علاوہ ازیں درآمدی روئی کی شپمنٹس آرہی ہیں جسکی ادائیگی میں رقم لگ رہی ہے جسکے باعث مقامی کاٹن مارکیٹ میں مالی بحران بتایا جاتا ہے ۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی سپاٹ ریٹ کمیٹی نے سپاٹ ریٹ میں فی من 100 روپے کی کمی کرکے سپاٹ ریٹ فی من 7500 روپے کے بھائو پر بند کیا۔ صوبہ سندھ میں روئی کا بھائو فی من 6300 تا 8000 روپے جبکہ پھٹی کا بھائو فی 40 کلو 2600 تا 3100 رہا گو کہ پھٹی قلیل مقدار میں دستیاب ہے ۔ بین الاقوامی کپاس مارکیٹوں میں روئی کے بھائو میں اتار چڑھا کے بعد استحکام رہا۔ کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئر مین نسیم عثمان نے بتایا کہ صوبہ سندھ میں پانی کی شدید کمی محسوس کی جارہی ہے تاہم جہاں پانی دستیاب ہے وہاں جزوی طور پر کپاس کی بوائی ہورہی ہے لیکن شدید گرمی کے باعث پودے جلنے کی شکایت کی جارہی ہے ۔ نسیم عثمان کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت آئندہ سال روئی کی پیداوار میں اضافہ ہونے کی توقع ہے کیوں کہ اس سال کپاس کے کاشتکاروں کو پھٹی کے مناسب بھائو ملے ہیں جبکہ دوسری جانب گنے کے کاشتکاروں کو مناسب ریٹ نہیں ملا جس سے کاشتکار دل برداشتہ ہیں اور اگلے سال گنے کے بجائے کپاس کا زیر کاشت رقبہ زیادہ ہو گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…