اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

’’اب ہوں گی گاڑیاں سستی‘‘دنیا میں دھوم مچادینے والی کار ساز کمپنی نے پاکستان میں پلانٹ لگانے کا فیصلہ کر لیا

datetime 4  فروری‬‮  2017 |

کراچی(آن لائن)ہنڈائی موٹر کمپنی، ٹیکسٹائل کی مقامی کمپنی نشاط ملز کے ساتھ مل کر پاکستان میں گاڑیاں اسمبل کرنے کا پلانٹ نصب کر ے گی۔ ہنڈائی کی پاکستان میں واپسی معیشت کو بہتر بنانے کی حکومتی کوششوں اور مقامی مارکیٹ پر جاپانی ساختہ گاڑیوں کی کمزور ہوتی گرفت کا نتیجہ ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نشاط ملز کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا

ہے کہ نشاط ملز کا ہنڈائی کمپنی کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے نتیجے میں ہنڈائی کمپنی نشاط ملز کے ساتھ پاکستان میں گاڑیوں کا پلانٹ نصب کرے گی۔ہنڈائی اور کیا موٹرز جنوبی کوریا کی کمپنیاں ہیں جو 2004 تک پاکستان میں اپنی موٹر گاڑیاں اسمبل کررہی تھیں،ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کوریا کی سب سے بڑی آٹو کمپنی پاکستان میں کتنی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہے۔پچھلے سال فرانسیسی موٹر ساز کمپنی رینالٹ اور جنوبی کوریا کی کیا موٹر کمپنی نے پاکستان میں مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر اپنے پلانٹ لگانے کا اعلان کیا تھا، حکومت کا خیال ہے کہ گاڑیوں کی صنعت میں مسابقت سے ان کی قیمتیں مناسب سطح پر لانے میں مدد ملے گی جو اس وقت بہت زیادہ ہیں۔برطانوی خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت مارچ میں آٹو انڈسٹری کے لیے اپنی نئی پالیسی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں اس شعبے کے لیے فیاضانہ مراعات کی توقع کی جا رہی ہے، پاکستان کی آبادی 20 کروڑ کے لگ بھگ ہے جو آٹو کمپنیوں کے لیے ایک پر کشش مارکیٹ ثابت ہو سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…