ابوظہبی(نیوزڈیسک)خلیجی ریاستوں میں اضافی قدری محاصل لگانے کی تیاریاں،تارکین وطن پریشانی میں پڑ گئے،متحدہ عرب امارات کی وزارت مالیات کے ایک سینئر عہدیدار نے انکشاف کیاہے کہ خلیجی ریاستیں خطے میں اضافی قدری محاصل کے نفاذ سے متعلق اہم معاملات پر متفق ہو گئی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یو اے ای کی وزارت مالیات کے انڈر سیکرٹری یونس حاجی الخوری نے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے پر خلیجی وزراءکے چند دن قبل ہونے والے اجلاس میں معاہدہ طے پایا،حاجی الخوری نے بتایاکہ اضافی قدری محاصل ٹیکس کو تین برس کے اندر مکمل طور پر نافذ العمل کر لیا جائے گا، تاہم حتمی معاہدے کے بعد 18 سے 24 مہینوں کی مدت کے دوران اس کا نفاذ ممکن ہو جائے گا،چھ خلیجی ریاستوں میں صحت، تعلیم، معاشرتی خدمات اور 94 اشیاءخورنی پراضافی محاصل میں چھوٹ دی جائے گی، الخوری نے مزید بتایا کہ مالیاتی خدمات سمیت چند ایسے امور ہیں کہ جنہیں اضافی قدری محاصل کے دائرہ کار میں لانے پر خلیجی ممالک کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
خلیجی ریاستوں میں اضافی قدری محاصل لگانے کی تیاریاں،تارکین وطن پریشانی میں پڑ گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پختونخوا میں گورنر راج کے بعد پاکستان تحریک انصاف سے پہلا پہلا استعفیٰ
-
سکرو ڈرائیور سے سوراخ کیے گئے‘، موت سے قبل حنا جاوید پر بہیمانہ تشدد کی لرزہ خیز تصاویر سامنے آگئیں
-
پنجاب حکومت نے گندم کی نئی قیمت مقرر کردی
-
متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کیلیے نئی فیسوں کا اعلان
-
کسانوں کے لیے بڑی خوشخبری، حکومت نے گندم کی قیمت مقرر کر دی
-
سرکاری ملازمین کے لیے اہم خبر، حکومت نے نیا حکم جاری کر دیا
-
وزارت ملتے ہی ڈی جی فوڈ کی میوزیکل چیئر شروع، 24 گھنٹوں میں 2 مرتبہ ڈی جی فوڈ تبدیل
-
ٹرائی سیریز: سری لنکا نے نئی تاریخ رقم کر دی
-
زلزلے کے جھٹکے،لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے
-
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
ای بائیکس اور الیکٹرک رکشے خریدنے کے خواہشمندوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
سونا خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی
-
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا
-
مسلمان ہوں، لیکن ہم نماز نہیں پڑھتے : شبانہ اعظمی انٹرویو میں کھل کر بول پڑیں



















































