پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

”’معزز“جیسے القابات کو عدالتوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

datetime 3  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہاہے کہ ”’معزز“جیسے القابات کو عدالتوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے لیے ’معزز‘ کا لقب استعمال کرنے سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسٹیٹ لائف انشورنس کے

ملازم کے کیس میں حکم جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ امید ہے ججز، وکلا اور درخواست گزار خوشامدی اور متعصب ہونے کے تاثر سے گریز کریں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ آئین پاکستان میں معزز یا عزت ماب جیسے القابات عدالتوں کیلئے نہیں لکھے گئے، پارلیمنٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کیلئے ’معزز‘ کا لفظ کوئی استعمال نہیں کرتا تاہم سپریم کورٹ یا ہائی کورٹس کیلئے ”معزز عدلیہ‘‘کا لقب عام استعمال ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ برطانوی پارلیمنٹ جو پارلیمانی نظام کی ماں کہلاتی ہے وہاں بھی معزز پارلیمنٹ نہیں لکھا جاتا، ججز یا ارکان پارلیمنٹ کو معزز ممبران لکھنے میں حرج نہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ کیس کی سماعت کے دوران وکیل نے بار بار معزز سپریم کورٹ کہا، استفسار پر وکیل نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں 16 مرتبہ معزز سپریم کورٹ لکھا گیا۔عدالت نے سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف شوکت علی کی درخواست خارج کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…