کراچی (نیوز ڈیسک)خلائی راکٹ بلاشبہ حیرت انگیز ایجاد ہے۔ یہ زمین کی کشش ثقل کو شکست دے کر ارضی مدار میں پہنچتا ہے۔ اس کی رفتار کئی ہزار میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ یہ فولاد کے نقطہ پگھلاﺅ سے دگنا درجہ حرارت برداشت کرسکتا ہے مگر یہ زیرِ آب رہتے ہوئے اڑان نہیں بھرسکتے! اگر ان میں یہ استعداد ہوتی تو خلائی تحقیق کے ادارے ’ناسا‘ کو سطحِ سمندر میں اضافے پر تشویش نہ ہوتی۔ بیش تر امریکی خلائی اڈے ساحلِ سمندر پر واقع ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سمندری سطح میں اضافے سے یہ زیرِ آب آسکتے ہیں۔
ناسا کے مطابق اس کے نصف سے زائد لانچنگ پیڈز اور دوسرا انفرااسٹرکچر سطح سمندر سے محض سولہ فٹ کی بلندی پر ہے۔ اس میں تجربہ گاہیں، ایئر فیلڈز اور ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں۔ ان کی مجموعی مالیت32 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ آئندہ برسوں میں فلوریڈا میں قائم کینیڈی اسپیس سینٹر سمیت دوسرے خلائی اڈوں اور متعلقہ تعمیرات کو ساحل سمندر سے دور، خشکی پر منتقل کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق گرین لینڈ اور قطب جنوبی پر گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ سمندر کے درجہ حرارت اور ان کے پھیلاو¿ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور سمندروں کی سطح میں اضافے کے دنیا پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ناسا کے سمندری ماحول پر ریسرچ کرنے والی ٹیم کے سربراہ اسٹیو نیریم کے مطابق، ”زمین پر حدت میں اضافے کی وجہ سے مستقبل میں سمندر کی سطح میں تین فٹ تک اضافہ ہوسکتا ہے۔“
کینیڈی اسپیس سینٹر، ناسا کا اہم ترین خلائی مرکز ہے۔ اس کا لانچنگ پیڈ اور دوسری متعلقہ عمارتیں بحراوقیانوس سے محض چند سو فٹ کی دوری پر ہیں۔ اسی طرح ورجینیا میں قائم ویلوپس فلائٹ فیسیلٹی بھی سمندر سے بہت زیادہ دور نہیں۔ ناسا کے تحقیقی مشن اسی خلائی اڈے سے روانہ ہوتے رہے ہیں۔ لینگلے ریسرچ سینٹر بھی ورجینیا کی حدود میں خلیج چیساپیک کے کنارے پر واقع ہے۔ ایمز ریسرچ سینٹر خلیج سان فرانسسکو کے جنوبی سرے پر ہے۔ اسی طرح جونسن اسپیس سینٹر خلیج گیلویسٹن پر تعمیرکیا گیا ہے۔ ان کی بنیاد سطح سمندر سے پانچ سے 40 فٹ کی بلندی پر رکھی گئی ہے۔ ان کے مقابلے میں ناسا کی نیواورلینز میں واقع مچاو¿ڈ اسمبلی فیسیلٹی سطح سمندر سے نیچے ہے۔ سمندری طوفان، کترینا کے تھمنے کے بعد ملازمین کو اربوں گیلن پانی اس سینٹر کی حدود سے باہر نکالنا پڑا تھا۔
ناسا کا کینیڈی اسپیس سینٹر ساحل سمندر کی دلدلی زمین پر بنا ہوا ہے۔ خلائی اڈے کی تعمیرات سطح سمندر سے پانچ سے دس فٹ اونچائی پر کی گئی ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے سمندر کی سطح میں اضافے سے متعلق جو نمونے ترتیب دیے ہیں، وہ ظاہر کرتے ہیں کہ 2050ءکے عشرے میں کینیڈی اسپیس سینٹر کے اطراف پانی کا لیول پانچ سے آٹھ انچ تک بلند ہوچکا ہوگا۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق اگرچہ پانی کو سینٹر کی حدود میں داخل ہونے کے لیے کئی عشرے درکار ہوں گے، مگر گلوبل وارمنگ کے پیش نظر اس خلائی اڈے کا جلد یا بہ دیر زیرآب آنا یقینی ہے۔
یہاں ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ناسا نے اپنی بیش تر تعمیرات لبِ ساحل کیوں کی ہیں؟ دراصل گذشتہ صدی کے وسط میں امریکی حکومت نے سمندر کے کنارے سے خلائی راکٹ اور خلائی جہاز روانہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کا مقصدکسی ممکنہ حادثے کی صورت میں ہونے والے نقصان سے عام آبادی کو محفوظ رکھنا تھا۔ ناسا نے چند اہم مراکز میں تجربہ گاہوں اور دیگر عمارات کو پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے نام وَر ماہرینِ سے رجوع کر لیا ہے، جو اس سلسلے میں اپنے تعمیراتی منصوبے منظوری کے لیے پیش کریں گے۔
خلائی تحقیقاتی مراکز خطرے میں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے



















































