منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

بلوچستان میں ہر طرف تباہی ، ملک کے تمام صوبوں سے زمینی رابطہ منقطع

datetime 25  اگست‬‮  2022 |

کوئٹہ (این این آئی)بارش برسانے والا ایک اور مضبوط سسٹم شمالی بلوچستان میں داخل ہو گیا ہے ،ندی نالوں میں طغیانی، رابطہ سڑکیں بہہ جانے اور پل ٹوٹنے کے باعث بلوچستان کا ملک کے دیگر تمام صوبوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بارشیں برسانے والا مضبوط سسٹم جنوب وسطی اور مغربی بلوچستان تک پھیل رہا ہے جس کے باعث چمن شہر کے

نواحی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں۔چمن میں کئی علاقوں کے برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں، شہر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی متاثر ہوگئی۔لیویز کنٹرول کے مطابق کوہ خواجہ عمران کے دامن میں سیلابی ریلوں میں رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں جس کے باعث سپینہ تیزہ اور غوڑئی کے دیہات کا 3 دن سے چمن شہر سے رابطہ منقطع ہے۔مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں دوبارہ بارش سے مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور امدادی کاموں میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی اور گلستان میں موسلادھار بارش کے باعث رابطہ سڑکیں آمدورفت کیلئے بند کر دی گئیں جبکہ توبہ اچکزئی میں برج متکزئی ڈیم اوور فلو ہونے کے باعث سیلابی پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا ہے۔ادھر پشین، برشور، خانوزئی، کان مہترزئی اور مسلم باغ میں گرج چمک کیساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جبکہ لورا لائی، ژوب، میختر، شیرانی، دکی اور زیارت میں بھی بادل خوب برسے ۔

لیویز حکام کے مطابق خانکہ ندی میں پھنسے اسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ ذکاء اللہ درانی کو بحفاظت نکال لیا گیا، اسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ سیلاب سے متاثرہ علاقے جاتے ہوئے خانکہ ندی میں پھنس گئے تھے۔نئے طاقتور اسپیل نے بلوچستان کے بالائی اور شمالی علاقوں میں پھر سے سیلابی صورتحال بنا دی ، بالائی علاقوں میں سیلابی ریلوں سے کئی مکانات اور باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ڈیرہ بگٹی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل میں تیز بارش کے باعث برساتی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے جس سے مختلف علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔شدید بارشوں، ندی نالوں میں طغیانی اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے کے باعث بلوچستان کا سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ساتھ زمینی رابطہ معطل ہو چکا ہے۔

ادھر کوئٹہ کے علاقے نواں کلی بائی پاس پر برساتی ریلے گھروں میں داخل ہوگئے۔پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پی ڈی ایم اے اور پولیس کی ریسکیو ٹیمیں علاقے میں موجود ہیں جنہوں نے خواتین اور بچوں سمیت 20سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا ہے۔دوسری جانب کوہلو اور ماوند میں رات گئے سے بارش جاری رہی جہاں کوہلو میں مسلسل بارش سے متعدد علاقوں میں لوگ محصور ہوگئے ہیں ۔

درجنوں کچے مکانات گرنے سے لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔کوہلومیں ضلعی انتظامیہ کے پاس خیموں کی قلت ہوگئی اور متاثرین حکومتی امدادکے منتظر ہیں۔لیویز حکام کا کہنا ہے کہ کوہلوکی بیجی ندی میں گزشتہ روزبہہ جانے والے 2 افرادکی تلاش جاری ہے،کوہلو کاکوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان سے زمینی رابطہ 12 ویں روز بھی منقطع رہا۔ادھر مستونگ شہر اور گرد و نواح میں رات سے موسلادھار بارش جاری رہی جس سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے اور سیلاب متاثرین کی مشکلات بڑھ گئیں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…