اسلام آباد(تحریر :شکیل احمد خان میو)برطانیہ کے معروف ,نایاب اور مشہور زمانہ عسکری میڈل وکٹوریہ کراس کی شہرت، اہمیت اور مالیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔برطانوی بادشاہت کے دور میں 1857 کو ملکہ برطانیہ نے برطانوی فوج میں بہادری اور شجاعت دکھانے والے آرمی آفیسروں اور فوجیوں کے اعزاز میں ایک میڈل کا اجراء کیا جو تاحال برطانیہ کا سب بڑا اعلی اور
معتبر عسکری ایوارڈ ہے۔یہ میڈل برطانیہ کی پوری دنیا میں موجود کالونیز اور دولت مشرکہ میں شامل ممالک کے کسی بھی فوجی کو بلاتفرق رنگ نسل، مذہب اور عہدے کے دیا جا سکتا تھا۔یہی وجہ تھی کہ نہ صرف پوری دنیا بلکہ برصغیر سے بھی 11 مختلف افراد کو پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بہادری دکھانے کے سبب اس اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا جس میں چار پاکستانی بھی شامل ہیں۔ اور یہ بھی ایک اعزاز کی بات تھی کہ ملکہ وکٹوریہ اور بعد میں تاج برطانیہ سے تعلق رکھنے والے شہنشاہ خود اس میڈل کو ایک تقریب کے دوران فوجی کے سینے پہ سجاتے تھے۔ 1857 سے لے کر اب تک 164 سالوں میں 1355 مختلف لوگ اس اعزاز کے مستحق قرار پائے ہیں۔ یہ میڈل نایاب اور نادر ہونے کی وجہ سے کولیکٹرز کے مابین بھی بہت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق انگلینڈ میں وکٹوریہ کراس میڈل کی نیلامی چھ لاکھ برطانوی پاؤنڈز یعنی تقریبا پاکستانی پندرہ کروڑ روپے تک بھی دیکھی گئی ہے۔ اب تک کی سب بڑی پرائیوٹ کولیکشن برطانیہ سے ہی تعلق رکھنے والے معروف کاروباری اور سیاسی شخصیت لارڈ ایسکروفٹ (Lord Ashcroft) کے پاس ہے۔ جو نادرو نایاب چیزوں میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے 1986 میں جمع کرنا شروع کیے تھے 34 سال کے اس عرصہ میں وہ 162 میڈلز خرید چکے ہیں جو دنیا میں موجود کل میڈلز کا دسواں حصہ بنتا ہے۔ باقی کے زیادہ تر میڈلز 30 مختلف میوزیمز کی زینت ہیں۔ لارڈ ایسکروفٹ کی ملکیت میں موجود تمام میڈلز کی کل مالیت 24 ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ بعض میڈلز تو انہوں نے مانگی قیمت پر خریدے ہیں۔ 2008 میں لارڈ ایسکروفٹ نے برطانیہ کے Imperial War Museum کو 5 ملین پاؤنڈ عطیہ کیے جس سے میوزیم نے ان کے لیے میوزیم کے اندر علیحدہ گیلری ڈیزائن کی جس میں لارڈ ایسکروفٹ کے ڈونیٹ کیے ہو ئے تمام میڈلز ڈسپلے کیے گئے۔ اب اس میزیم میں کل 210 میڈلز آویزاں کیے گئے ہیں جو مجموعی طور پر کسی بھی میوزیم میں موجود وکٹوریہ کراس میڈلز کی سب سے بڑی کولیکشن ہے۔ اور یہ گیلری 2010 میں عوام الناس کے لیے کھول دی گئی۔ آپ برطانیہ اور برطانوی لوگوں کی اپنی تاریخی ورثہ , تہذیب وثقافت, سے جذباتی وابستگی اور اہمیت کا اندازہ اس ایک مثال سے لگا سکتے ہیں۔

























