اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر رات اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہےجبکہ رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے۔ تو وہ فرماتا ہے: کون ہے مجھ سے دعا کرنے والا تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے مجھ سے سوال کرنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟
کون ہے مجھ سے استغفار کرنے والا تاکہ میں اس کی مغفرت کروں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات (اپنی حسب شان) آسمان دنیا کی طرف نزول اجلال فرماتا ہے۔ رات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو پکارتا ہے: کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے کہ میں اسے عطا کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے معافی چاہے کہ میں اسے بخش دوں؟حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا نصف یا اس کے دو تہائی حصے گزر جاتے ہیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ (اپنی شان کے لائق) آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور فرماتا ہے: کوئی ہے مانگنے والا کہ جسے میں عطا کروں، کوئی ہے دعا کرنے والا کہ جس کی دعا میں قبول کروں، کوئی ہے بخشش طلب کرنے والا کہ جسے میں بخش دوں حتیٰ کہ اِسی طرح صبح ہو جاتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: جب رات کا نصف يا اُس کے دو تہائي حصے گزر جاتے ہیں تو اﷲ تبارک و تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور فرماتا ہے: کوئی مانگنے والا ہے جسے میں عطا کروں۔ کوئی دعا کرنے والا ہے کہ جس کی دعا میں قبول کروں، کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے کہ جسے میں بخش دوں حتی کہ اِسی طرح صبح ہو جاتی ہے۔اللہ ہم سب پر اپنی رحمت نازل کرے ۔ امین

























