جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

وہ وقت جب بینظیر نے حامد میر کو اپنی حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے شکریہ کیساتھ یہ آفر کیوں قبول نہ کی؟سینئر صحافی نے خود ہی بتا دیا

datetime 4  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی ، کالم نگار اور اینکر پرسن حامد میر روزنامہ جنگ میں اپنے آج کے کالم میں تحریرکرتے ہیں کہ ۔۔۔قیامِ پاکستان سے ایک ہفتہ قبل بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 7اگست 1947کو دہلی سے کراچی روانگی سے قبل آل انڈیا مسلم لیگ کے مرکزی دفتر کے انچارج سید شمس الحسن کو ملاقات کیلئے بلایا اور

مختلف شخصیات کے ساتھ اپنی خط و کتابت کا پلندہ ان کے حوالے کر دیا۔ کچھ دنوں بعد سید شمس الحسن کے دہلی میں واقع گھر پر حملہ ہو گیا۔پولیس انہیں گرفتار کرکے لے گئی لیکن پھر کسی نہ کسی طرح وہ رہائی پا کر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ پہلے لاہور اور پھر کراچی پہنچ گئے۔ سید شمس الحسن سب کچھ دہلی چھوڑ آئے لیکن قائداعظم کی دی ہوئی امانت کو سنبھال کر پاکستان لے آئے۔یہاں آ کر انہوں نے بانی پاکستان کو بتایا کہ آپ نے جو خطوط میرے حوالے کئے تھے وہ محفوظ ہیں۔ بانی پاکستان نے ہدایت کی کہ ان خطوط کو 20 سال کے بعد شائع کر دینا۔ 1958میں مارشل لا لگا تو مسلم لیگ کے دفتر میں موجود سارے ریکارڈ پر حکومت نے قبضہ کر لیا۔سید شمس الحسن نے اس مشکل وقت میں بھی قائداعظم کی امانت کو کسی نہ کسی طرح سنبھال کر رکھا اور پھر جب ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم بنے تو ان کے دور میں قائداعظم کے خطوط کو اپنے طویل پیش لفظ کے ساتھ شائع کیا۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ صرف مسٹر جناح

کے نام سے شائع ہوا۔سید شمس الحسن کے ایک برخوردار واجد شمس الحسن صحافی بن گئے اور پھر برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر بنے۔ 1994میں فرانس سے ایٹمی آبدوزیں خریدنے کے معاملے پر میں نے ایک اسٹوری بریک کی جس کے نتیجے میں مجھے ملازمت سے

ہاتھ دھونا پڑے۔ اس معاملے پر جب قومی اسمبلی میں بحث ہوئی تو وہاں بار بار مجھ ناچیز کا ذکر آیا۔اپوزیشن نے الزام لگایا کہ حامد میر کو آصف علی زرداری نے نوکری سے نکلوا دیا۔ وزیراعظم بینظیر بھٹو نے مجھے بلایا اور اپنی حکومت میں شامل کرنے کی پیشکش کی۔ میں نے فوری

طور پر جن دو لوگوں سے مشورہ کیا ان میں واجد شمس الحسن اور بشیر ریاض شامل تھے۔ دونوں بزرگ محترمہ بینظیر بھٹو کے بہت قریب تھے۔ دونوں نے مشورہ دیا کہ صحافت مت چھوڑو۔ میں نے محترمہ بینظیر بھٹو کا شکریہ ادا کیا اور معذرت کر لی جس پر وہ بھی خوش ہوئیں کہ میں صحافت جاری رکھنا چاہتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…