جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

وہ ماں جسے اپنے بیٹے سے پردے کا حکم دیا گیا ،ایسا شرعی حکم جس کا علم گھر کے ہر فرد کو ہونا چاہئے

datetime 17  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام کے اندر اولاد کو والدین سے پردہ کرنے کا کوئی حکم موجود نہیں لیکن اسلامی معاشرے میں ایک ایسا رشتہ بھی موجود ہے جو مقدس ہونے کے باوجود پردہ کے حکم کا تابع ہے ۔عام لوگ اسلام میں لے پالک بچوں کے معاملے میں لاعلم ہیں کہ اسلام میں منہ بولی ماں اور منہ بولے باپ سے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اگرعورت کوئی غیر محرم بچہ لے کر پالے تو

اسے اڑھائی سال کی عمر میں وہ عورت خود یا اس کی بہن یا ماں دودھ پلا دیں تو وہ بچہ رضاعی بیٹایا بیٹی، بھانجا یا بھانجی، بھائی یا بہن بن کر، اس عورت کے لئے محرم ہو جائے گا۔ اگر لڑکی لے پالک ہو تو اسے شوہر کی بہن یا ماں بھی دودھ پلا دیں تو وہ منہ بولے باپ کے لئے محرم ہو جائے گی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری (وہ) مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعت میں شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (سب) حرام کر دی گئی ہیں“احادیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ نے حضرت حمزہ ؓ کی صاحبزادی کے بارے میں فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں ہے کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت علیؓ سے روایت ہے حضور نبی اکرم ؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو (رشتہ) نسب سے حرام کیا وہی رضاعت سے حرام فرمایا۔اس لیے نسبی یا رضاعی محرم بچہ پالنے کی صورت میں تو پردے کا مسئلہ نہ ہو گا لیکن غیر محرم لے پالک بیٹے سے منہ بولی ماں اور غیر محرم لے پالک بیٹی کو منہ بولے باپ سے پردہ کرنا لازم ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…