اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ریٹائرڈ جرنیلوں، ججوں اور سینئر بیوروکریٹس پر بھاری رقوم ضائع کیے جانے کا معاملہ وفاقی کابینہ میں زیر بحث آیا مگر کوئی فیصلہ کیوں نہ ہوسکا؟انصار عباسی کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 13  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)رواں ہفتے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ٹیکس دہندگان کی جیبوں سے نکلنے والی بھاری رقوم دوبارہ بھرتی کیے جانے والے اشرافیہ طبقے، ریٹائرڈ جرنیلوں، ججوں اور سینئر بیوروکریٹس پر ضائع کیے جانے کا معاملہ زیر بحث آیاتاہم ملک کے

اعلی ترین ایگزیکٹو ادارے نے اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ کابینہ کے ایک رکن نے خبردار کیا کہ ججوں اور جرنیلوں کی وجہ سے یہ معاملہ حساس ہے۔روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق ایک وزیر نے کہا کہ چند ریٹائرڈ ججوں، جرنیلوں اور بیوروریٹس کے فائدے کیلئے سرکاری خزانے سے بھاری رقوم برباد کی جا رہی ہیں کیونکہ دوبارہ بھرتی کیے جانے والے اِن ریٹائرڈ لوگوں کو بھاری تنخواہیں دی جا رہی ہیں اور یہ رقوم ان تنخواہوں سے کہیں ز یادہ ہیں جو انہیں اپنی ملازمت کے دوران مل رہی تھیں۔ ساتھ ہی یہ افراد پنشن کے مزے بھی لے رہے ہیں۔ان ذرائع کا کہنا تھا کہ کئی معاملات ایسے ہیں جن میں دیکھا جائے تو یہ افسران اپنی ملازمت کے دوران ہی اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے تقرر کا بندوبست کر دیتے ہیں۔یہ تجویز دی گئی کہ سرکاری خزانے سے ریٹائرڈ جرنیلوں، ججوں اور بیوروکریٹس پر پیسہ ضائع ہونے سے بچانے کیلئے حکومت کو چاہئے کہ وہ دوبارہ بھرتی (ری ایمپلائمنٹ)

پالیسی میں سختی لائے جس کے تحت انتہائی غیر معمولی کیسز کے علاوہ کسی کے دوبارہ بھرتی ہونے کی گنجائش موجود نہیں۔یہ بھی کہا گیا کہ غیر معمولی حالات میں بھی دوبارہ بھرتی کیلئے ایسے ریٹائرڈ افسران کو اس وقت تک پنشن نہ دی جائے جب تک ان کی دوبارہ ملازمت

کا عرصہ مکمل نہیں ہو جاتا اور دوبارہ بھرتی کیے جانے کی صورت میں انہیں وہی تنخواہ دی جائے جو وہ ریٹائرمنٹ سے قبل وصول کر رہے تھے۔ وزارتی ذرائع کے مطابق، وزیر قانون نے کابینہ کو معاملے کی حساسیت سے آگاہ کیا کیونکہ اس میں عدلیہ اور فوج شامل ہے۔

اس وارننگ کے بعد، کابینہ نے اس معاملے پر کوئی فیصلہ لینے سے گریز کیا اور تجویز دی گئی کہ اس معاملے پر سرکاری ارکان کے چھوٹے گروپ میں بعد میں بات کی جائے گی۔ کابینہ کے ایک رکن نے بتایا کہ حکومت یہ معاملہ پے اینڈ پنشن کمیشن کو غور کیلئے بھیج سکتی ہے لیکن

اس معاملے پر عدلیہ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ ہونا مشکل ہے۔کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ اداروں کو ناراض کر سکتا ہے۔ اس بات کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ خالصتاً ایگزیکٹو سے وابستہ ہے اور ایگزیکٹو ہی اِن ریٹائرڈ ججوں، جرنیلوں یا پھر سینئر بیوروکریٹس کو دوبارہ بھرتی کرتی ہے اور اس حوالے سے شرائطِ کار طے کرتی ہے،ان افسران کو سرکاری ملازمتیں ایگزیکٹو ہی دیتی ہے لیکن اس کے باوجود کابینہ نے اس معاملے پر کسی فیصلے سے گریز کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…