نام میں کیا رکھا ہے۔۔۔ بس میں ایک مزدور ہوں۔ میری کہانی اس ملک کے کروڑوں محنت کشوں کی داستان ہے۔سمجھ میں نہیںآتا بات کہاں سے شروع کروں۔۔۔زندگی کے واقعات ریشم کی ڈور کی مانند الجھے ہوئے ہیں،کوئی سرا ہاتھ آئے تو بات چلے ۔۔۔ زندگی بے ربط ہے۔اک ڈور ہے جس بندھے ہوئے ہیں ، کھینچ پڑتی ہے تو چل پڑتے ہیں۔۔۔ ہر دن ، ہر صبح نئے مسائل کیساتھ طلوع ہوتی ہے
۔شام کا سورج بہت سے ارمانوں کا گلہ گھونٹ کرچھپ جاتا ہے۔بہت چھوٹا تھا جب مجھے محنت کے ہل میں جوتا گیا۔۔۔ اب تو بالوں میں سفیدی جھانکنے لگی ہے۔ جانے کس جرم کی سزاپائی ہے ۔۔۔سفر کٹنے میں ہی نہیں آتا۔۔۔
تقدیرنے آنکھوں پر ’’کھوپا ‘‘باندھ رکھا ہے۔۔۔ ایک ہی دائرے میں گھوم رہے ہیں۔۔۔ موسموں کی سبھی شدتیں اس لاغر بدن سے اٹکھیلیاں کر چکی ہیں۔۔۔جون جولائی کی روح جھلساتی دھوپ ہو یادسمبر جنوری کی لہو جمانے والی سرد ہوائیں۔ بارش سے بھیگے موسم ہوں یا منہ زور طوفانی جھکڑ۔۔۔ہماری مجبوریاں اور ضرورتیں موسموں کے بدلتے تیوروں پر حاوی رہتی ہیں۔۔۔ کیوں؟ ۔۔۔ کیا بتاؤں۔۔۔محترم ! چھٹی کا مطلب فاقہ ہوتا ہے۔وقت کی آزادی تو ہے۔۔۔ چاہے آٹھ گھنٹے کام کریں یا بارہ سے سولہ گھنٹے۔۔۔کام مل جائے تو ٹھیک ہے ورنہ خالی ہاتھ گھر جا کر بھی کیا کرنا ہے۔۔۔ زندگی کے ہر میدان میں مصروف عمل ہوں۔ آگ سے دہکتے بھٹوں اورتنوروں سے لے کر ملوں، کارخانوں تک ۔۔۔ کھیتوں کھلیانوں سے لے کرغلہ اور سبزی منڈی تک۔۔۔ سڑکوں پراخبار بیچنے سے لے کر پھول فروشی تک۔۔۔ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی دھلائی سے لے کر نجی دفاتر اور گھروں کی صفائی تک۔۔۔الغرض! کون سا ایسا شعبہ ہے جہاں پیٹ کا دوزخ بھرنے کیلئے کوشاں نہیں۔ کڑی محنت و مشقت کے باوجود معاشرے کی بے رحمی اور ناانصافی کاشکار ہوں۔ بنیادی حقوق سے محروم میری برادری میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جسے معمولی اجرت دینے والے آجر باربرداری میں کام آنے والے جانوروں سے بھی بدتر سمجھتے ہیں۔۔۔
جی ہاں !ہتھ ریڑھی کے مزدور۔۔۔ ہاتھوں اورکندھوں سے ریڑھیاں کھینچنے والے ’’انسان‘‘ آپ نے بڑے شہروں کے بڑے بازاروں میں ریڑھیوں میں جتے دیکھے ہوں گے۔
ان کی ضروریات زندگی کیا ہے؟۔۔۔ مبالغہ آرائی کی حد تک جاؤں تو’’روٹی ، کپڑا اور چھت‘‘۔۔۔ہاں ! مکان کی نہیں۔۔۔ انہیں سر چھپانے کو چھت ہی مل جائے تو غنیمت ہے۔آدھی سے زیادہ اجرت توایک کمرے کے بوسیدہ حال مکان کے کرائے میں چلی جاتی ہے۔پھر ایک پنکھے اور دو بلبوں کا بل بھی اتنا آجاتا ہے۔۔۔ جتنے منٹ پورے مہینے میں بجلی نہیں آتی۔اللہ کا شکر ہے کہ گیس کا ایک سلنڈر پورا مہینہ کاٹ دیتا ہے۔
کھانے پینے کی آپ کو کیا بتاؤں۔۔۔ پیٹ سے کپڑا اٹھا کر کیا فائدہ۔۔۔تیرے جیسے پَترکار ان دنوں کیمرے اور قلم لے کر ہماری مزدوری کا اچھا خاصا وقت کھا جاتے ہیں۔ہوتا کیا ہے رات گئی بات گئی۔۔۔قصہ مختصر !ہتھ ریڑھی مزدور ! دو وقت کی روٹی کے لئے خود کو مشقت کی بھٹی میں جھونک رکھتے ہیں۔۔۔ ان میں عمر کی کوئی قید نہیں۔۔۔ ریڑھی پر لدے وزن کو کھینچنے کی طاقت رکھنے والے بچے اور مجھ سے بھی لاغر بوڑھے اس بھٹی کا ایندھن ہیں۔
پاکستان بنے68برس بیتے لیکن کسی حکومت نے اس انسانیت سوز عمل اوران مزدوروں کو متبادل روزگار کی فراہمی پر توجہ نہیں دی۔۔۔یار!وہ سب ہمارے لئے تھوڑی ہوتی ہیں سب سکیمیں جیالوں اور متوالوں کیلئے ہوتی ہیں آٹو رکشے، یلو کیپ گاڑیاں ہمارے لئے نہیں۔۔۔ہم میں کوئی بھی ایسا نہیں جسے سرکاری’’ ریلیف‘‘ ملا ہو۔ بالفرض کوئی ایسا ’’حادثہ‘‘ ہو بھی جائے تو ہتھ ریڑھی کے مزدور آٹو رکشہ اوریلو کیپ کی ڈاؤن پیمنٹ اور اقساط ادا کرنے کے قابل ہی نہیں۔۔۔ اگر گردہ بیچ کر ڈاؤن پیمنٹ کا انتظام کر بھی لیا جائے توہمارا ضمانتی کون بنے؟
یوم مئی ۔۔۔ لہو رنگ تاریخ
آج کا مزدور1886ء کے شکاگو میں رہ رہا ہے
سال کے پانچویں مہینے کی پہلی تاریخ۔۔۔ یکم مئی !دنیا بھر کے محنت کشوں کا عالمی دن ۔اپنے عالمی دن کا فیصلہ بھی محنت کشوں نے خودہی کیا ۔۔۔ اس وقت اقوام متحدہ کا وجود ہی نہیں تھا۔ دنیا بھر کے محنت کش اس دن 1886ء میں شکاگو کے اُن محنت کشوں کی یاد مناتے ہیں جنہوں نے جانوں کانذرانہ دے کر آٹھ گھنٹے کے اوقات کار مقرر کروائے۔شکاگو کے شہداء کو خراج پیش کرنے کیلئے جلسے، جلوس، ریلیاں اور سیمینار منعقد کر کے اس عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ جب تک دنیا سے استحصالی نظام کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، محنت کشوں کی جدوجہد جاری رہے گی۔
انقلاب تو 1789ء میں فرانس میں بھی آ یا۔۔۔ یاد رکھنے والے اُسے پیرس انقلاب کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ کارل مارکس کے نظریات پھیل رہے تھے کہ 1883ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس دور میں بھی محنت کشوں کے اوقات کار تھے اور نہ ہی کوئی قاعدہ قانون ۔۔۔ رات گئے تک کام، حادثے یا موت کی صورت میں ٹکا تک نہ ملتا۔ یورپ میں نت نئی صنعتوں کا جال پھیل رہا تھا۔۔۔ مزدوربھی یونین سازی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس جانب پہلا قدم برطانیہ میں اٹھایا گیا مزدوروں نے جدوجہدکی ۔۔۔
یونینز بنائیں، فیڈریشنز تشکیل دیں۔ لیکن جوتاریخ شکاگو کے محنت کشوں نے رقم کی وہ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔127 برس بیتے ۔۔۔ جب امریکا کے صنعتی شہر شکاگو کی مشہور زمانہ HAY مارکیٹ کے محنت کشوں نے مل مالکان ، کارخانہ داروں اور صنعت کاروں کو للکاراکہ ’’ظالموں ہم بھی انسان ہیں، ہمیں بھی زندہ رہنے کاحق دو، ہمارے اوقات کار مقرر کرو‘‘۔اس روز شکاگو جام ہوگیا تھا۔ چمنیوں نے دھواں اگلنا چھوڑ دیا تھا۔ دنیا کاپہلا واقعہ تھا جب محنت کشوں نے اتحاد و یگانگت کے بل پر
علم بغاوت بلند کرکے ایک باب رقم کیا تھا۔۔۔ پھر یکم مئی 1886ء کی صبح ایک گمنام صحافی نے لکھا تھا : ’’محنت کشوں! تمہاری لڑائی شروع ہو چکی، فیصلہ آنے والا وقت کرے گا، آگے بڑھو اپنے مطالبات کے لئے، اپنے اوقات کار کیلئے، جدوجہد جاری رکھو، حاکموں کو جھکنا پڑے گا، فتح تمہاری ہوگی، ہمت نہ ہارنا ، متحد رہنا ، اسی میں بقاء اورتمہاری فتح ہے۔ لڑتے رہنا مطالبات کی منظوری تک۔‘‘
اس تحریر نے محنت کشوں کا جذبہ ابھارا۔۔۔ انہوں نے زوردارنعرے کے ساتھ آٹھ گھنٹے اوقات کار کا مطالبہ کردیا اور پہلی مرتبہ چوبیس گھنٹوں کو اس طرح تقسیم کیا گیا کہ مزدور آٹھ گھنٹے کام ، آٹھ گھنٹے آرام اور آٹھ گھنٹے اپنے اہل خانہ اور بیوی بچوں کے ساتھ گزاریں گے۔۔۔ حکمرانوں، مل مالکوں اور سرمایہ داروں کی ٹرائیکا کو محنت کشوں کا مطالبہ اور اتحاد پسند نہ آیا ۔۔۔ محنت کشوں کے خلاف
سخت ایکشن لیا ، نہتوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی۔ شکاگو کی سڑکیں مزدوروں کے خون سے تر ہوگئیں۔ایک محنت کش کی لہوسے سرخ ہوئی قیمص کو مزدورں نے اپنا سرخ پرچم بنالیا۔ فیصلہ ہوا کہ مطالبات تسلیم کئے جانے تک کوئی مزدورکام پر نہیں جائے گا۔۔۔۔آخر کارمحنت کشوں کے مطالبات اور پہلی مرتبہ آٹھ گھنٹے کے اوقات کارتسلیم کر لئے گئے ۔بلوہ ، ہنگامہ آرائی اور پولیس اہلکار کی
ہلاکت کے الزام میں محنت کشوں کے سرکردہ رہنماؤں اگست ا سپائز، البرٹ پارسنز، کارٹر ہیری سن، سیموئل فیلڈن سمیت سات رہنماؤں پر مقدمہ چلا اور چار رہنماؤں کو پھانسی چڑھادیاگیا۔۔۔ان کا نام اور کام ہمیشہ کیلئے امر ہوگیا۔ بعد ازاں دنیا بھر میں محنت کشوں نے اپنی جدوجہد کے ذریعے کئی مطالبات منظور کروائے ۔1971ء میں روس میں بھی انقلاب آیا۔ یورپ میں بھی مزدوروں نے کئی مراعات حاصل کیں۔۔۔ وہاں مزدوروں کے اوقات کار چھے گھنٹے مقرر ہوئے۔لیکن انقلاب سے محروم ۔۔۔پاکستان میں آج بھی آٹھ گھنٹے کے بجائے بارہ سے سولہ گھنٹے کی مشقت لی جا رہی ہے۔ محنت کشوں کے حقوق غصب کئے جاچکے ہیں۔۔۔ کیاآج کا مزدور1886ء کے شکاگو میں رہ رہا ہے۔

























