جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

آتش نمرود میں حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ دوسری شخصیت کون تھیں؟۔۔ حق و یقین کا حیرت انگیز واقعہ

datetime 13  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)یوں تو حق کی خاطر حضرت ابراہیم ؑ کا آتش نمرود میں کود جانے کا واقع زبان زدعام ہے اور خود حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت ابراہیم ؑ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا واقع بتاتے ہوئےانہیں خلیل اللہ کے لقب سے نوازا ہے مگر بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ آتش نمرود کے گلزار کی خوشبو صرف حضرت ابراہیمؑ نے ہی نہیں سونگھی تھی بلکہ ایک اور

شخصیت بھی اس آگ میں آپ کے ہمراہ تھا جس کو رب تعالیٰ نے آنیوالی نسلوں کیلئے محترم بنا دیا۔ یوں تو حضرت سارہؑ نے بھی عشق الٰہیاورنبی کی محبت میں نمرود کے خلاف احتجاجاََآتش نمرود میں حضرت ابراہیمؑ کی ہمراہی کی استدعا کرتے ہوئے کودنے کی کوشش کی تھی مگر آپ ؑ کے والد اور دیگر لوگوں نے آپ کو ایسا نہ کرنے دیا، حضرت سارہؑ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ کے نکاح میں نہ آئی تھیں۔یہ سعادت کا مقام بھی عجیب ہے رب کائنات جسے چاہتا ہے عنایت فرما دیتا ہے۔ آتش نمرود میں حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ کوئی اور نہیں بلکہ نمرود کی ہی نو عمر بیٹی بھی تھی۔ واقعہ کچھ ایسے ہے کہ نمرود کی کم سن بیٹی نے اپنے باپ سے کہا۔ ابا جان ! مجھے اجازت دیں کہ میں ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جلتاہوا دیکھوں۔نمرود نے اجازت دے دی اور اس نے آگ کے قریب پہنچ کر ابراہیم علیہ السلام کود یکھا کہ آپ کے اردگرد آگ بھڑک رہی ہے ۔ اس نے کسی اونچی جگہ پر چڑھ کردیکھا تو آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے تھے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام بالکل صحیح سالم تشریف فرماتھے ۔اس نے حیران ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سوال کیا کہ اتنی بڑی آگ تمہیں جلاتی کیوں نہیں ۔ آپ ؑ نے فرمایا جس کی زبان پر بسم اللہ الرحمن الرحیم جاری ہواور دل میں خدا کی معرفت کا نور ہو۔ اس پر آگ کاا ثر نہیں ہوتا۔ نمرود کی بیٹی نے جب حضرت ابراہیمؑ کو آگ کے بھڑکتے شعلوں میں بھی

مطمئن اور خوش و خرم پایا تو بولی ۔اے ابراہیم ؑ! میں بھی تمہارے پاس آناچاہتی ہوں۔ مگرچاروں طرف تو آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں آؤں کیسے ؟آپؑ نے فرمایا۔ لاالہ الااللہ ابراہیم خلیل اللہ ۔ کہہ کربے خوف چلی آؤ۔ نمرود کی بیٹی نے اس پاک کلمے کو پڑھا۔ اور فوراََ آگ میں کود پڑی ۔ خدا کی قدرت آگ اس پر سردہوگئی ۔ اور وہ اس میں صحیح سالم زندہ رہی۔ جب ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے اپنے گھر

واپس آئی اور باپ کوساری سرگذشت سنائی تو نمرود سیخ پا ہو گیا پہلے تو اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ میں تیرے بھلے کی بات کہتا ہوں دین ابراہیم علیہ السلام سے باز آ۔ اور بتوں کی پوجا سے منہ نہ پھیریوورنہ اچھا نہ ہوگا۔ نمرود نے اگرچہ اپنی بیٹی کو بہت ڈرایا دھمکایا مگر اس نے ایک نہ مانی۔ آخر ملعون نمرود نے اس خدا کی پیاری پرظلموں کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ جب سختیاں حد سے بڑھ گئیں تو خدا کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام آئےاور خدا کی پیاری کو وہاں سے اٹھا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچا دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…