ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

من پسند کمپنیوں کو 10 ارب سے زائد کی ادائیگیاں،خوردبرد کی انوکھی داستان

datetime 27  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کی کرپٹ مافیا نے اسلام آباد پشاور موٹر وے کے اردگرد حفاظتی پتھروں کی تنصیب کے نام پر 82 کروڑ روپے لوٹ رکھے ہیں جبکہ متعلقہ اتھارٹی کو اعتماد میں لئے بغیر من پسند کمپنیوں کو 10 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کر رکھی ہیں۔ ان سکینڈل کی تحقیقات ہو نا تھیں لیکن ابھی تک مکمل نہ ہو سکی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ایم ون پشاور

۔ اسلام آباد موٹر کے اردگرد 6 ملین روپے کی جھاڑیاں اور گھاس لگائی تھی تاکہ ماحول کو بہتر کیا جائے لیکن کرپٹ مافیا نے موٹر کے اردگرد گھاس لگانے کی بجائے 82 کروڑ 51 کنسٹرکشن کمپنیوں کے نام پر قومی خزانہ سے لوٹ لئے گئے موٹر وے کے اردگرد گھاس کی بجائے پتھر تنصیب کریں گے ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ کرپٹ مافیا نے پی سی ون کی منظوری کے بغیر 10 ارب روپے نجی کنسٹرکشن کمپنیوں کو اضافہ ادائیگی کی اور اپنا حصہ وصول کیا یہ ادائیگیاںپشاور نادرن بائی پاس 190 ملین ،کوہالہ مظفر آباد روڈ 33 ملین ، پنوں عاقل روڈ 4 ملین ، جیکب آباد روڈ 101 ملین ، زلزلہ متاثرہ سڑکوں کے نام پر 1487 ملین ، 1197 کنال زمین کی خریداری میں 3322 ملین روپے لاڑکانہ روڈ 723 ملین قمبر شہداء کوٹ ، 209 ملین نصیر آباد روڈ ، 223 ملین منصوبوں کے نام پر کمپنیوں کو ادا کئے گئے ہیں ان سکینڈل کی تحقیقات 7 سال کے بعد بھی مکمل نہیں ہو سکی اور نہ ذمہ داران افسران کا تعین ہو سکا ہے ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سیلاب متاثرہ سڑکوں کی مرمت اور بحالی کے نام پر این ایچ اے کرپٹ مافیا ہر سال 9 ارب روپے کی کرپشن کرتا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ جیکب آباد سے ڈیرہ اللہ یار بائی پاس تک کی مرمت پر مجموعی طور پر 57 کروڑ روپے کا ٹھیکہ بغیر ٹینڈر کے من پسند کمپنی کو دیا گیا تھا کیونکہ جو سڑک تعمیر کرائی گئی وہ زمین ٹینڈر میں بھی شامل نہیں تھی اس خوردبرد کی

انوکھی داستان پر بھی کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا جبکہ چکدرہ کلام منصوبہ میں کمپنی کو اضافی طورپر 17 کروڑ روپے دیئے گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…