بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

ایمان اور عقیدے کے رشتے کوکوئی خراب نہیں کر سکتا،حافظ طاہر محمود اشرفی نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو لازوال قرار دیدیا

datetime 6  اگست‬‮  2020 |

لاہور(پ ر)سعودی عرب کی حکومت نے کرونا کی وبا ء کے باوجود حج کے بہترین انتظامات کر کے عالم اسلام کے مسلمانوں کے دلوں کی ترجمانی کی ہے، امت مسلمہ کو سعودی عرب کی حکومت اور قیادت کی مسلمانوں کیلئے خدمات پر ہمیشہ فخر رہاہے، کشمیر کے مسئلہ پر سعودی عرب کا کردار دیگر اسلامی ممالک سے کہیں زیادہ اور بہتر ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات لازوال ہیں۔

ہمارے ایمان اور عقیدے کے تعلقات ہیں جنہیں کوئی خراب نہیں کر سکتا۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علما کونسل و صدر دارالافتا پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اپنے ایک بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ کرونا کی وبا کی وجہ سے توقع کی جا رہی تھی کہ اس سال حج ملتوی ہو جائے گا لیکن سعودی عرب کی حکومت نے تمام تر احتیاطی تدابیر کو اختیار کر کے حج کو ملتوی کرنے کی بجائے حج کو محدود کیا۔ 156 ممالک کے شہریوں نے حج بیت اللہ کو ادا کیا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت اور عوام نے ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی ہے اور سعودی عرب کاامت مسلمہ کیلئے قائدانہ کردار سب کے سامنے ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات لازوال ہیں اور ہمارے تعلقات ایمان اور عقیدے کے رشتے پر مبنی ہیں جنہیں کوئی خراب نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال پر سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی تائید و حمایت کی ہے اور دیگر اسلامی ممالک کے مقابلے میں سعودی عرب کا کشمیر کے مسئلے پر موقف قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کی قیادت ایک سال قبل سعودی عرب کے پاس آئی ہے اور اسلامی تعاون تنظیم نے ایک سال کے عرصہ کے دوران کشمیر کے مسئلے پر ماضی سے کہیں بہتر اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی کی مرکزی سپریم کونسل کے اجلاس میں کشمیر

کے ایجنڈے کو باقاعدہ اجلاس کا حصہ دیگر ممالک کے ایجنڈوں کی طرح رکھا گیا تھا جو ایک سعودی عرب اور دنیا اسلام کی واحد اسلامی تنظیم رابطہ عالم اسلامی کا کشمیر کے حوالے سے موقف بھی واضح ترجمانی ہے۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ خارجہ امور ایک حساس معاملہ ہے ہمیں جذبات کی بجائے عقل و دانش و فہم کے ساتھ خارجہ امور پر بات کرنی چاہیے، پاکستان دشمن قوتیں چاہتی ہیں کہ کسی بھی طرح سے

سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات خراب ہوں اور پاکستان عرب ممالک سے دور ہو جس کی ہم نے ماضی میں جھلک دیکھی ہے۔سپہ سالار قوم جنرل قمرجاوید باجوہ کی محنتوں اور کوششوں سے پاکستان عرب اور اسلامی ممالک کے ایک بار پھر قریب ہوا ہے اور اگر کوئی یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ پاکستان کو عرب اسلامی ممالک سے دور کرے تو پوری نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ چالیس لاکھ پاکستانی عرب ممالک میں کام کرتے ہیں اور پاکستان کیلئے قوت کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب کی عوام اور سعودی عرب کی حکومت اور عرب اسلامی دنیا کشمیر کی صورتحال اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے مثبت اور عملی اقدامات اٹھائے گی اور ہم او آئی سی سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ او آئی سی بھی فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…