اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا کی پابندیوں کی دھمکی ، روس اور چین ایران کو بچانے کے لیے متحرک

datetime 10  جون‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی )روس اور چین اقوام متحدہ میں امریکا کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے حرکت میں آ رہے ہیں۔ اس دباؤ کا مقصد عالمی سلامتی کونسل میں ایسے اقدام کو مؤثر بنانا ہے جس کے ذریعے ایران پر تمام پابندیاں دوبارہ سے عائد ہو جائیں۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف اور چین کے سینئر سفارت کار وینگ یی نے 15 رکن ممالک پر مشتمل سلامی کونسل اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس کو

خطوط تحریری خطوط بھیج دیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق لاؤروف کی جانب سے مؤرخہ 27 مئی کے خط کا اعلان رواں ہفتے کیا گیا۔ خط میں انہوں نے لکھا کہ امریکا غیر ذمے داری اور بے ہودگی کا مظاہرہ کر رہا ہے … یہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔امریکا یہ دھمکی دے چکا ہے کہ اگر سلامتی کونسل نے ایران پر ہتھیاروں کی پابندی میں توسیع نہ کی تو واشنگٹن ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ لاگو کرنے کے لیے سرگرم ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ ایرانی جوہری معاہدے کی رْو سے رواں سال اکتوبر میں تہران پر عائد ہتھیاروں کی پابندی کی مدت اختتام پذیر ہو رہی ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ ہتھیاروں کی پابندی سے متعلق قرار داد کا مسوعدہ جلد ہی سلامی کونسل کے ارکان میں تقسیم کر دیا جائے گا۔روس اور چین جو سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھتے ہیں ، انہوں نے پہلے ہی عندیہ دے دیا ہے کہ وہ ایران پر ہتھیاروں کی پابندی کے دوبارہ عائد کیے جانے کی مخالفت کریں گے۔چین کے سینئر سفارت کار وینگ یی نے سات جون کے خط میں لکھا کہ امریکا کے ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدہ ہو جانے کے بعد اب وہ سمجھوتے کا فریق نہیں رہا لہذا اب اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ سلامتی کونسل سے مطالبہ کرے کہ پابندیوں کو جلد دوبارہ عائد کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…