اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

حکومت کو بلیک میل کر کے 19ویں ترمیم  منظور کروائی گئی  بلاول بھٹو کا انکشاف ، تمام سیاسی جماعتوں سے جواب مانگ لیا

datetime 6  مارچ‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 18 ویں ترمیم سے عوام کو تعلیم ،فیئر ٹرائل ،انفارمیشن کے آئینی حقوق دستیاب ہوئے اوریہ حقوق 18ویں ترمیم سے پہلے آئین میں شامل نہیں تھے،حکومت کو بلیک میل کر کے 19ویں ترمیم  منظور کروائی گئی ،وقت آنے پر سیاسی جماعتوں کو 19 ویں ترمیم پر نظر ثانی کرنا ہو گی،یہ بہت بڑا مغالطہ ہے کہ منتخب لوگوں کی

نسبت وفاقی بیورو کریسی زیادہ سمجھدار ہے،وفاقی بیوروکریٹس صرف قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات پر سرمایہ کاری کے علاوہ کچھ نہیں کرنا چاہتے ،وفاقی بیورو کریٹ تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کیلئے ہرگز تیار نہیں۔ ان خیالات کا اظہارا نہوں نے لاہور یونیورسٹی اینڈ مینجمنٹ سائنسز کی لاء اینڈ پالیٹکس سوسائٹی کے تحت طلبہ کے ساتھ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔بلاول بھٹو زرداری نے 18ویں آئینی ترمیم اور وفاقیت کے موضوع پر سیمینار پر طلبہ کے سوالوں کے جوابات دئیے ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں صدر کے تمام اختیارات وزیراعظم کو اور وفاق کے زیادہ تر اختیارات صوبوں کو منتقل کئے گئے ۔18ویں ترمیم میں ججوں کی تقرری کا اختیار پہلی بار پارلیمنٹ کو دیا گیا۔اس وقت حکومت کو بلیک میل کر کے 19ویں ترمیم کروائی گئی ،وقت آنے پر سیاسی جماعتوں کو 19 ویں ترمیم پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر تمام صوبوں کا اتفاق رائے ایک تاریخی واقعہ تھا ،یہ بہت بڑا مغالطہ ہے کہ منتخب لوگوں کی نسبت وفاقی بیورو کریسی زیادہ سمجھدار ہے۔18ویں ترمیم کے بعد سندھ میں مزدوروں کو ان کے تمام حقوق دیئے گئے ،لیبر لاز کے حوالے سے پنجاب حکومت سندھ حکومت سے بہت پیچھے ہے،سندھ میں دیگر صوبوں کی نسبت سیلز ٹیکس کم ہے۔لیکن سندھ حکومت نے سیلز ٹیکس سب سے زیادہ اکٹھا کیا۔مفت ہیلتھ کیئر میں بھی سندھ سب صوبوں سے آگے ہے،ہم نے سندھ میں ہیلتھ کیئر پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی۔عدالتی حکم کے باوجود

وفاقی حکومت نے سندھ کے صحت کے ادارے لینے سے انکار کردیا تھا،وفاقی حکومت کو صحت پر سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بیوروکریٹس صرف قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات پر سرمایہ کاری کے علاوہ کچھ نہیں کرنا چاہتے ،وفاقی بیورو کریٹ تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کیلئے ہرگز تیار نہیں

،ہماری قومی شناخت کیا ہو اس کا تعین وفاقی حکومت یا ریاست نہیں کر سکتی ،قومی شناخت گوادر سے اسکردو تک کی ثقافتوں، زبانوں، اور رہن سہن سے بنتی ہے ،میری قومی پہچان قائد اعظم کے افکار ہیں،ثقافتی تنوع ہماری طاقت ہے کمزوری نہیں ،لوگوں کو ایک شناخت میں فٹ کرنے کی بجائے قوم کے سارے رنگ اس میں شامل کرنے چاہئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…