ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

اسکاٹ لینڈ کے جزیرے پر 5 دہائیوں بعد پہلا جرم

datetime 20  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)دنیا میں شاید ہی کوئی ملک یا جگہ ایسی ہو جہاں جرائم نہ ہوتے ہوں اس لیے ہم آپ کو ایسی جگہ کا نام بتارہے ہیں جہاں سالوں میں تو کیا 5 دہائیوں تک کوئی جرم نہیں ہوا تھا لیکن ایک چور نے وہاں موجود دکان لوٹ کر یہاں کی تاریخ ہی بدل ڈالی۔اسکاٹ لیند کے علاقے ہیبری ڈین کے 26 افراد پر مشتمل چھوٹا سا جزیرہ سکون اور امن کی مثال ہے جہاں کئی دہائیوں سے لوگ چوری اور ڈکیتی سے بے خبر زندگی گزار رہے ہیں، گزشتہ 50 سال تک اس جزیرے پر کوئی جرم نہیں ہوا لیکن اب پانچ دہائیوں بعد چوروں نے اس خوبصورت اور پرامن وادی کی نصف صدی کی تاریخ کو سیاہ داغ لگا دیا اور جزیرے پر موجود واحد جنرل اسٹور کا سارا سامان لوٹ کر لے گئے۔ جزیرے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ چوری کے بعد اس کی رپورٹ لکھوانے کے لیے وہاں کوئی پولیس اسٹیشن بھی موجود نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق چوروں نے جزیرے کی واحد دکان سے ٹافیاں، چاکلیٹ، کافی، صابن، بسکٹس اور دیگر کھانے پینے کی اشیا پر ہاتھ صاف کیا گیا ہے اور اس میں موجود کیش کو ہاتھ تک نہیں لگایا اس کے علاوہ چور جاتے جاتے دکان کی مالکن کی ہاتھ سے اون کی بنی ٹوپیاں بھی لے اڑے۔ دکان پر تحائف، ہاتھ سے بنی اشیا اور جنرل آئٹم بیچے جاتے ہیں جب کہ اس دکان کو جزیرے کے بنے ہوئے کنا کیمونٹی ڈویلپمنٹ ٹرسٹ چلاتا ہے، دکان 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے اور جب کسی گاہک کو کچھ چاہئے ہوتا ہے وہ چیز لے کر اسے وہاں موجود رجسٹر پر رقم لکھ کر اس میں رکھ کر چلا جاتا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق اس جزیرے پر آخری بار جرم 1960 میں ہوا تھا جب ایک چور نے یہاں موجود چرچ سے لکڑی سے بنی پلیٹ چوری کرلی تھی جس کا آج تک پتا نہ چل سکا۔ چوری پر تبصرہ کرتے ہوئے دکان کی مالکن کا کہنا تھا کہ انہیں اس چوری سے صدمہ ہوا ہے جس نے علاقے کی ایمانداری کے تصورکو متاثر کیا ہے جب کہ اس واقعے کے بعد وہ یہاں سی سی ٹی وی کیمرہ لگانے کا سوچ رہے ہیں لیکن یہ وہ ایسا کرنا بھی نہیں چاہتے کیوں کہ یہ ایمانداری کے تصور کے خلاف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…