منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

عمران فاروق قتل کیس،ملزم معظم علی سے نائن زیرو ملنے گیا تو خوف طاری ہوگیا،ایک اور گواہ کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 5  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)انسداد دہشت گردی عدالت میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل سے متعلق کیس میں مزید دو گواہان نے بیان ریکارڈ کرادیا۔ بدھ کو اے ٹی سی کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی، جہاں تمام ملزمان کو اڈیالہ جیل سے عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔دوران سماعت برطانوی گواہان محمد اکبر اور معین الدین شیخ نے بذریعہ ویڈیو لنک بیان ریکارڈ کرایا۔واضح رہے کہ عدالت نے ان دونوں برطانوی گواہان کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا تھا۔بعد ازان سماعت کے دوران گواہ محمد اکبر نے کہا کہ معظم علی نے مجھے ای میل کی کہ وہ اپنی 3 بیٹیوں کے ہمراہ میرے ساتھ رہنا چاہتا ہے، تاہم میں نے چھوٹے مکان میں رہنے کے باعث انہیں ساتھ رہنے سے منع کردیا تاہم انہوں نے کہا کہ میں نے ایک دوست کے ذریعے ان کو رہائش دلوائی اور میں نے معظم علی کو ہیتھرو ایئرپورٹ سے پک کیا۔گواہ محمد اکبر نے کہاکہ میں معظم علی کو اپنے ایک دوست شہزاد کے ذریعے جانتا تھا، میرے کراچی کے ایک اچھے دوست اکبر نے درخواست کی کہ معظم کی دیکھ بھال کرے۔دوران سماعت گواہ محمد اکبر نے کہا کہ معظم علی پہلی بار لندن الطاف حسین کی شادی میں آئے، مجھے معظم کا پہلی بار لندن آنے کے سال کا نہیں پتہ تاہم وہ الطاف حسین کی شادی پر آئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ آنے کے بعد معظم علی پھر 3 سے 4 مرتبہ دوبارہ لندن آئے جبکہ اس دوران میں نے بھی پاکستان کے 2 چکر لگائے اس پر وکیل صفائی نے گواہ سے پوچھا کہ کیا آپ ان سے پاکستان میں لے؟ اور اگر ملے تو کس طرح ملے؟گواہ محمد اکبر نے کہا کہ پاکستان کے پہلے دورے پر معظم علی مجھے لینے کراچی ایئرپورٹ آئے،جس کے بعد دوسری مرتبہ میں 2012 میں پاکستان گیا۔اس دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ معظم علی نے میرے دوست اکبر سے درخواست کی کہ مجھے اْن کی جگہ پر لے آئیں، اس پر وکیل نے سوال کیا کہ وہ کون سی جگہ تھی جہاں معظم علی نے آپ کو آنے کا کہا؟ جس پر گواہ نے بیان دیا کہ وہ جگہ شاید نائن زیرو تھی۔محمد اکبر نے کہا کہ جب میں معظم سے ملنے وہاں گیا تو مجھ پر خوف طاری ہوگیا، اس جگہ پر چیک پوسٹ تھی اور بہت سے لوگوں کے پاس بندوقیں تھیں۔گواہ محمد اکبر نے بتایا کہ یہ میرا ان کے پاس آخری دورہ تھا میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں ان کی طرح کا بندہ نہیں ہوں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…