اسلام آباد(نیوز ڈیسک )جاپان میں بڑے شہروں میں نرسنگ سٹاف کی کمی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے بزرگ افراد کی شہروں سے مضافات میں منتقلی کی حوصلہ افزائی کی خاطر ایک نیا قانون زیر غور ہے، جسے ناقدین بزرگوں کی ڈمپنگ کی کوشش کا نام دے رہے ہیں۔ٹوکیو سے منگل سولہ جون کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ملکی حکومت کی کوشش ہے کہ ایک ایسا نیا قانون منظور کرایا جائے، جس کے تحت بڑے شہروں میں رہنے والے بزرگ شہریوں کو یہ ترغیب دی جائے گی کہ وہ بہتر طبی سہولیات کی خاطر مضافاتی علاقوں میں رہائش اختیار کر لیں۔جاپان کے جی جی پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس منصوبے کے تحت حکومت عام طور پر بڑے شہروں اور خاص طور پر بہت زیادہ آبادی والے ملکی دارالحکومت ٹوکیو اور اس کے قرب و جوار میں رہنے والے شہریوں کو یہ سہولت دینے پر بھی تیار ہے کہ اگر ایسے بزرگ شہری دیہی علاقوں میں منتقل ہو جائیں تو وہاں انہیں ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے گی۔اسی منصوبے کے تحت ایک طرف اگر بہت بوڑھے شہریوں کو ایسی طبی نگہداشت کی امید بھی دلائی جا رہی ہے، جسے پیشہ ور نرسنگ سٹاف کی کمی کا سامنا نہ ہو تو ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایسی صورت میں دیہی علاقوں کے بلدیاتی اداروں کو حکومت کی طرف سے نئی مالی اعانتیں بھی دی جائیں گی۔اس پالیسی پروگرام اور اس سے متعلق ممکنہ قانون سازی کا ایک پس منظر یہ ہے کہ جاپان کی آبادی میں بزرگ شہریوں کی شرح مسلسل زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورت حال خاص طور پر صحت عامہ اور سوشل سکیورٹی کے شعبوں پر بہت زیادہ دباو¿ کی وجہ بن رہی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ جاپان میں اگلے ایک عشرے کے دوران بہت بوڑھے مریضوں کے لیے ایک لاکھ تیس ہزار اضافی بستروں کی ضرورت ہو گی۔اس سلسلے میں جاپان کے علاقائی ترقی کے وزیر شی گیر±و ایشی با نے آج منگل کے روز صحافیوں کو بتایا کہ اس حوالے سے جس نئی قانون سازی کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کا ایک مرکزی مقصد شہری علاقوں میں نرسنگ ہومز کی کمی پر قابو پاتے ہوئے بزرگ شہریوں کے لیے مسلسل طبی دیکھ بھال کو یقینی بنانا بھی ہے۔اس جاپانی وزیر نے کہا کہ اس منصوبے کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں جو سال رواں کے آخر تک مکمل ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک ماڈل پراجیکٹ کے طور پر اگلے مالی سال میں متعارف کرا دیا جائے گا۔دوسری طرف اس منصوبے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی سے حکومت بڑے شہروں میں رہنے والے بزرگ افراد کو مضافاتی اور دیہی علاقوں میں رہائش اختیار کرنے کی جو ترغیب دینا چاہتی ہے وہ دراصل ا±وباس±وٹے یاما ہے۔ جاپانی زبان میں اس اصطلاح کا مطلب ہے، گرینی ڈمپنگ یا نانیوں اور دادیوں سے چھٹکارہ پانے کے لیے انہیں کسی جگہ پھینک دینا۔اس کے برعکس علاقائی ترقی کے جاپانی وزیر کے مطابق حکومت شہری علاقوں میں رہنے والے کسی بھی بزرگ مرد یا خاتون کو دیہی علاقوں میں منتقل ہونے پر مجبور نہیں کرے گی تاہم انہیں یہ پیش کش کی جائے گی کہ اگر وہ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔جاپان پالیسی کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2025ئ تک صرف ٹوکیو اور اس کے گرد و نواح میں رہنے والے 75 برس سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کی تعداد 1.75 ملین ہو جائے گی اور تب پورے جاپان میں ایسے عمر رسیدہ شہریوں کی مجموعی تعداد 5.72 تک پہنچ جائے گی۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سیمنٹ کی قیمت میں کمی ریکارڈ، فی بوری کی نئی قیمت سامنے آگئی
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
کن کن شہروں میں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
-
پاکستان کو 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والا نیا بولر مل گیا
-
سونا سستا، فی تولہ قیمت میں بڑی کمی، عوام کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
صنف تبدیل کرنے والی انایا بنگر کو خواتین کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی
-
بل گیٹس کی مستقبل کے بارے میں تشویشناک پیشگوئی
-
یو اے ای ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم خبر
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ،اپنا گھر بنانے والوں کیلئے بڑی خبر
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں حیران کن کمی



















































