ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

بھارت میں متنازع قانون کیخلاف غیر مسلم بھی سراپا احتجاج ،پارسی اور ہندو شہریوں نے تعصب پر مبنی سیکولر شناخت کیخلاف اور ہٹلر کا قانون قرار دیدیا

datetime 26  دسمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی (اے ایف پی) بھارت میں نئے شہریت قانون کیخلاف اپنے غم وغصے کے اظہار کے لئے دسیوں ہزاروں افراد سڑکوں پر موجود ہیں، مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلم کمیونٹی کیخلاف تعصب پر مبنی ہے۔

اس قانون کیخلاف مظاہرے کرنے والوں میں صرف مسلمان ہی شامل نہیں بلکہ اس کیخلاف مظاہرہ کرنے والوں میں بڑی تعداد ہندوؤں، نچلی ذات کے دلت اور پارسیوں کی بھی ہے جو مسلمانوں کیساتھ یکجتہی کا اظہار کررہے ہیں اور اس کی مذمت کررہے ہیں۔احتجاج میں شامل ایک پارسی نوجوان کیری نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس قانون نے بھارت کی سیکولر شناخت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں، 29سالہ مانسی خود ہندوہیں تاہم نئے متنازع قانون کی مذمت کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کے تحفظ کیلئے کھڑا ہونا ہم سب کی ذمہ داری ہے،دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر نندنی کا کہنا ہے کہ ہم مسلمان برادری کیساتھ کھڑے ہیں، 20سالہ پراناو کا کہنا ہے کہ بی جے پی بھارت میں مسلمانوں کیساتھ وہی سلوک کررہی ہے جو ہٹلر نے یہودیوں کیساتھ کیا۔بھارت میں نئے متنازع شہریت قانون کے تحت مسلمانوں کے علاوہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے دیگر 6 مذاہب کے لوگوں کیلئے بھارتی شہریت کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔2014ء سے اقتدار میں آنے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کیلئے اس نئے قانون کیخلاف احتجاج اب تک کا سب سے بڑا چیلنج ہے جس میں کم از کم 25 افراد مارے جاچکے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے اے ایف پی نے نئی دہلی میں منگل کے روز شریک 5 مظاہرین سے بات چیت کی۔32 سالہ کیرسی ایک پارسی ہے اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں کام کرتا ہے، وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبہ کی کال پر ہونے والے احتجاج میں شامل تھا، انہوں نے اپنا مختصر نام کیرسی بتایا اور کہا کہ وہ شدید پریشان ہیں کیوں کہ بھارت کی سیکولر شناخت کی بنیاد کو اس سے پہلے کبھی اس طرح سے نہیں ہلایا گیا تھا۔

اس نے بتایا کہ ہمارے آئین کی بنیاد سیکولر ہے، اس میں مختلف نظریہ اور مذاہب اور رنگ ونسل سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں، ہمارے معاشرے میں مختلف لسانی،معاشرتی اور ثقافتی مفادات موجود ہیں اور یہی ہماری ملک کی اصل روح ہے جو اسے دیگر ممالک سے جدا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے قانون سے جتنا خطرہ آج ملک کو ہے اس سے پہلے نہیں تھا۔ 29 سالہ مانسی کا تعلق ہندوئوں کی اعلیٰ ذات سے ہے، وہ امریکا میں رہائش پذیر ہیں اور اس وقت اپنے والد کے ساتھ چھٹیاں گذارنے کیلئے نئی دہلی میں ہیں،انہوں نے بتایا کہ ماضی میں بھی متنازع قانون سازی کی جاتی رہی ہے لیکن اس مرتبہ شہریت کے حق کو ہی ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…