جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

پاکستان سے کرپشن کا مکمل خاتمہ کیسے ممکن ہے ؟آسان طریقہ بتا دیا گیا

datetime 22  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)سابق ڈی جی نیب شہزاد انور بھٹی نے کہا ہے کہ نیب کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے،ملک سے بدعنوانی ختم کرنی ہے تو ہر طبقہ کے بدعنوان افراد کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ ایک انٹرویو میں سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب شہزاد انور بھٹی نے کہا کہ جو بھی کرپٹ آدمی پکڑا جاتا ہے وہ اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے شور مچاتا ہے۔

ہمیں یہ یقین ہے کہ نیب کسی کی طرفداری نہیں کر رہی اور کارروائیوں میں شفافیت ہے۔ حکومت سیاستدان بھی نیب کے دائرے میں ہیں اور ان کے خلاف بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم میں کوئی ٹائم لائن نہیں ہوتی اور 30 دن میں مقدمات کی سماعت ممکن ہی نہیں ہے جبکہ گواہوں کی لمبی لمبی فہرست اس لیے بنائی جاتی ہے تاکہ مقدمات کو طوالت دی جائے اور اس کی وجہ سے ہی مقدمہ کمزور ہو جاتا ہے۔شہزاد انور بھٹی نے کہا کہ نیب کو اپنے کارروائیوں میں شفافیت رکھنی چاہیے، حکومت اور حزب اختلاف کے خلاف کارروائی ایک جیسے ہونی چاہیے تاہم اس وقت ہمیں کوئی جھول نظر نہیں آ رہا اور نیب اپنا کام درست طریقے سے کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بدعنوانی میں ملوث رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کا فیصلہ ایک اچھا اقدام ہے کیونکہ پروڈکشن آرڈرز کی وجہ سے تحقیقات ٹھیک طرح سے نہیں ہو سکتی۔سابق ڈی جی نیب نے کہا کہ پشاور نیب کی جانب سے حکومتی نمائندوں پر مقدمات بنے ہوئے ہیں جبکہ وفاق میں حکومت کو آئے ابھی تو ایک سال ہی ہوا ہے۔ حزب اختلاف کے افراد کئی سالوں سے حکومت کرتے رہے ہیں اور ان کی بدعنوانی کی فہرست لمبی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی کی گرفتاریوں کے حوالے سے بھی شور مچایا جا رہا ہے لیکن بدعنوانی روکنے کے لیے سب کی پکڑ دھکڑ ہونا ضروری ہے۔

سابق ڈی جی پارکس 20 ویں گریڈ کے افسر تھے لیکن ان کے گھر سے اربوں روپے مالیت کا سامان برآمد ہوا۔شہزاد انور بھٹی نے کہا کہ ٹیکس کا معاملہ نیب کا مسئلہ نہیں ہے۔ نیب صرف ایسے افراد پر ہاتھ ڈالتی ہے جو بدعنوانی میں ملوث ہوتے ہیں۔ حکومت نیب ترامیم کے ذریعے مختلف لوگوں کو بچانے کے چکر میں ہے لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے نیب کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…