جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کامیاب، امریکی افواج کی واپسی کے ٹائم فریم کا اعلان کر دیا گیا، کیا کچھ طے پایا؟ تفصیلات جاری

datetime 23  اگست‬‮  2019 |

کابل (نیوز ڈیسک) افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کامیاب، امریکی افواج کی واپسی کے ٹائم فریم کا اعلان کر دیا گیا، افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی ماہ سے جاری امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، افغانستان سے امریکی فوج پندرہ سے چوبیس ماہ کے دوران چلی جائے گی، افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے،

میڈیا ذرائع کے مطابق مذاکرات کی کامیابی میں پاکستان اور چین نے اہم کردار ادا کیا ہے، اس کے علاوہ افغانستان کی آئندہ حکومت کے فیصلے کے لیے طالبان اور موجودہ افغان حکومت کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہوں گے اور جلد ہی ان مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ مذاکرات کی کامیابی سے متعلق باقاعدہ اعلان آئندہ چند روز میں کیا جائے گا، افغان امن عمل کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا پہلے حصے میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہونا تھے جو مکمل ہو گئے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں موجودہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوں گے ان مذاکرات میں دونوں فریق آئندہ حکومت کے مستقبل کا فیصلہ مل کر کریں گے۔ دوسری جانب ایک خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان سے فوجوں کے انخلاء سے متعلق امریکا اور طالبان کے درمیان قطر میں ہونے والے امن مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہوگئے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بدلے طالبان کی جانب سے سیکیورٹی ضمانت دینے کا معاملہ زیر غور آئے گا۔ طالبان کے ترجمان اور امریکی اہلکار نے بھی امن مذاکرات کے لیے فیصلہ کْن ملاقات کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طے پائے جانے والے نکات پرعمل درآمد کے لیے روٹ میپ پر غور کیا جائے گا جس کے بعد افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا پْرامن راستہ کھل جائے گا۔

اس وقت افغانستان میں ہزاروں کی تعداد میں امریکی فوج موجود ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شام اور عراق کے ساتھ ساتھ افغانستان سے بھی اپنی فوجوں کا پْرامن انخلاء چاہتا ہیں اور اس کے لیے اپنے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کو افغان طالبان سے مذاکرات کے تمام اختیارات سے دیئے ہیں۔امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد گزشتہ برس سے افغان طالبان اور دیگر فریقین سے مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے قطر، متحدہ عرب امارات،

سعودی عرب اور پاکستان سمیت ہمسائے ممالک سے بھی گفتگو کی ہے۔اب تک ہونے والے مذاکرات کے دور میں کسی بھی سطح پر کابل حکومت کو شامل نہیں کیا گیا ہے کیوں کہ افغان طالبان نے مذاکرات پر رضامندی کا اظہار کابل حکومت کی عدم شرکت کی شرط پر کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نمائندوں سے بات چیت کے بعد زلمے خلیل زاد کابل جائیں گے جہاں وہ امن سمجھوتے سے متعلق چوٹی کے افغان رہنماؤں کو اعتماد میں لیں گے اورافغانستان میں جنگ کے خاتمے کے مراحل کو حتمی شکل دیں گے۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…