اسلام آباد(نیوزڈیسک )سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بے پناہ ترقی نے انسان کو کائنات کے کئی رازوں سے پردہ اٹھانے کے قابل بنایا ہے، لیکن اب بھی خلا کی وسعتوں اور زمین کی تہ میں انسان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اور اِسے کئی معموں کا حل ڈھونڈنا ہے۔سائنس داں کئی عشروں سے گرم پانی کے کم وقت میں برف میں تبدیل ہو جانے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیق اور تجربات کررہے ہیں، لیکن انہیں اس میں مکمل کام یابی نہیں ملی ہے۔ اس ضمن میں مختلف ادوار میں سائنسی تھیوریز سامنے آتی رہی ہیں اور کئی سائنس دانوں نے اس معمے کو حل کرنے کا دعویٰ بھی کیا، لیکن انہیں کسی وجہ سے تسلیم نہیں کیا گیا۔ گذشتہ برس ماہرین کی جانب سے اس سلسلے میں اہم کام یابی حاصل کرنے کا ایک اور دعویٰ کیا گیا، جس کے مطابق عام درجہ حرارت پر رکھے ہوئے پانی کے مقابلے میں گرم پانی کا جلدی برف میں تبدیل ہونا اس کے مالیکیولوں کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہے۔یہ عام مشاہدہ ہے کہ نارمل درجہ حرارت پر رکھا گیا پانی جلدی نہیں جمتا جب کہ گرم پانی اس کے مقابلے میں تیزی سے برف بن جاتا ہے۔ پانی کا یہ عمل دیگر مائعات سے بہت مختلف ہے، جسے ”Mpemba effect“ کہا جاتا ہے۔ پانی کے اس طرح منجمد ہونے کی وضاحت کے لیے سائنس دانوں نے درجنوں نظریات پیش کیے، مگر کوئی بھی پانی کی اس طبعی خصوصیت کی قابل قبول وضاحت پیش نہیں کرسکا۔ ڈاﺅن ٹاﺅن کی ایک یونیورسٹی کے ماہرین طبیعیات نے بھی اس سے متعلق تجربات کے بعد اپنے مشاہدات اور اس تجربے سے اخذ کردہ نتائج کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔اس تحقیقی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ پانی کے اس غیرمعمولی طرز عمل کا راز اس کے مالیکیولز کے باہمی تعامل میں پوشیدہ ہے۔ ان کے مطابق پانی کا ہر مالیکیول اپنے پڑوسی مالیکیول کے ساتھ انتہائی بار دار برقی مقناطیسی بانڈ کے ذریعے جڑا ہوتا ہے، جسے ہائیڈروجن بانڈ کہا جاتا ہے۔ اسی بانڈ کی وجہ سے پانی میں تناﺅ پیدا ہوتا ہے۔ یہ تناﺅ ہی دیگر مائعات کے مقابلے میں پانی کو بلند درجہ کھولاﺅدیتا ہے۔ اس تجربے سے منسلک ایک ماہرِ طبیعیات ڈاکٹر چنگ کا کہنا ہے کہ یہ سطحی تناﺅہی آبی مالیکیولوں کے توانائی ذخیرہ اور خارج کرنے کے طرز عمل کا تعین کرتا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق پانی میں سے توانائی کے اخراج کی شرح پانی کی ابتدائی حالت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی ہے، اسی لیے جب گرم پانی کو مخصوص درجہ انجماد ملتا ہے تو وہ زیادہ تیزی سے توانائی خارج کرتا ہے۔ عام طور پر جب کسی مایع کو گرم کیا جاتا ہے، تو اس کے ایٹموں کے مابین موجود کوویلنٹ بانڈ پھیلتے ہیں اور توانائی ان کے درمیان ذخیرہ ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر چنگ اور ان کے ساتھی سائنس داں کہتے ہیں کہ پانی میں ہائیڈروجن بانڈز غیرمعمولی اثر پیدا کرتے ہیں۔ اس اثر کی وجہ سے پانی کو گرم کیے جانے پر کوویلنٹ بانڈز مختصر ہوجاتے ہیں اور توانائی ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ایسا پانی فریزر میں رکھا جائے تو یہ بانڈز زیادہ تیزی سے توانائی خارج کرتے ہیں اور پانی کے منجمد ہونے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ سائنس کی دنیا میں اس سلسلے میں سامنے آنے والے دیگر نظریات کی طرح حالیہ تجربے کے نتائج کو بھی حتمی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق مالیکیولز کے باہمی تعامل پر یہ تحقیق اس معمے کے مکمل حل میں ضرور مدد دے سکتی ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
21سالہ ماڈل کا گھر میں بیدردی سے قتل
-
آسٹریلیا نے پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا



















































