اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

گرم پانی میں ذخیرہ شدہ توانائی

datetime 7  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بے پناہ ترقی نے انسان کو کائنات کے کئی رازوں سے پردہ اٹھانے کے قابل بنایا ہے، لیکن اب بھی خلا کی وسعتوں اور زمین کی تہ میں انسان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اور اِسے کئی معموں کا حل ڈھونڈنا ہے۔سائنس داں کئی عشروں سے گرم پانی کے کم وقت میں برف میں تبدیل ہو جانے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیق اور تجربات کررہے ہیں، لیکن انہیں اس میں مکمل کام یابی نہیں ملی ہے۔ اس ضمن میں مختلف ادوار میں سائنسی تھیوریز سامنے آتی رہی ہیں اور کئی سائنس دانوں نے اس معمے کو حل کرنے کا دعویٰ بھی کیا، لیکن انہیں کسی وجہ سے تسلیم نہیں کیا گیا۔ گذشتہ برس ماہرین کی جانب سے اس سلسلے میں اہم کام یابی حاصل کرنے کا ایک اور دعویٰ کیا گیا، جس کے مطابق عام درجہ حرارت پر رکھے ہوئے پانی کے مقابلے میں گرم پانی کا جلدی برف میں تبدیل ہونا اس کے مالیکیولوں کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہے۔یہ عام مشاہدہ ہے کہ نارمل درجہ حرارت پر رکھا گیا پانی جلدی نہیں جمتا جب کہ گرم پانی اس کے مقابلے میں تیزی سے برف بن جاتا ہے۔ پانی کا یہ عمل دیگر مائعات سے بہت مختلف ہے، جسے ”Mpemba effect“ کہا جاتا ہے۔ پانی کے اس طرح منجمد ہونے کی وضاحت کے لیے سائنس دانوں نے درجنوں نظریات پیش کیے، مگر کوئی بھی پانی کی اس طبعی خصوصیت کی قابل قبول وضاحت پیش نہیں کرسکا۔ ڈاﺅن ٹاﺅن کی ایک یونیورسٹی کے ماہرین طبیعیات نے بھی اس سے متعلق تجربات کے بعد اپنے مشاہدات اور اس تجربے سے اخذ کردہ نتائج کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔اس تحقیقی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ پانی کے اس غیرمعمولی طرز عمل کا راز اس کے مالیکیولز کے باہمی تعامل میں پوشیدہ ہے۔ ان کے مطابق پانی کا ہر مالیکیول اپنے پڑوسی مالیکیول کے ساتھ انتہائی بار دار برقی مقناطیسی بانڈ کے ذریعے جڑا ہوتا ہے، جسے ہائیڈروجن بانڈ کہا جاتا ہے۔ اسی بانڈ کی وجہ سے پانی میں تناﺅ پیدا ہوتا ہے۔ یہ تناﺅ ہی دیگر مائعات کے مقابلے میں پانی کو بلند درجہ کھولاﺅدیتا ہے۔ اس تجربے سے منسلک ایک ماہرِ طبیعیات ڈاکٹر چنگ کا کہنا ہے کہ یہ سطحی تناﺅہی آبی مالیکیولوں کے توانائی ذخیرہ اور خارج کرنے کے طرز عمل کا تعین کرتا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق پانی میں سے توانائی کے اخراج کی شرح پانی کی ابتدائی حالت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی ہے، اسی لیے جب گرم پانی کو مخصوص درجہ انجماد ملتا ہے تو وہ زیادہ تیزی سے توانائی خارج کرتا ہے۔ عام طور پر جب کسی مایع کو گرم کیا جاتا ہے، تو اس کے ایٹموں کے مابین موجود کوویلنٹ بانڈ پھیلتے ہیں اور توانائی ان کے درمیان ذخیرہ ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر چنگ اور ان کے ساتھی سائنس داں کہتے ہیں کہ پانی میں ہائیڈروجن بانڈز غیرمعمولی اثر پیدا کرتے ہیں۔ اس اثر کی وجہ سے پانی کو گرم کیے جانے پر کوویلنٹ بانڈز مختصر ہوجاتے ہیں اور توانائی ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ایسا پانی فریزر میں رکھا جائے تو یہ بانڈز زیادہ تیزی سے توانائی خارج کرتے ہیں اور پانی کے منجمد ہونے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ سائنس کی دنیا میں اس سلسلے میں سامنے آنے والے دیگر نظریات کی طرح حالیہ تجربے کے نتائج کو بھی حتمی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق مالیکیولز کے باہمی تعامل پر یہ تحقیق اس معمے کے مکمل حل میں ضرور مدد دے سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…